کراچی: ڈیزل کی قیمتوں میں مسلسل اضافے اور بڑھتے ہوئے ایندھن کے اخراجات نے ملک بھر بالخصوص کراچی کے گڈز ٹرانسپورٹ کے شعبے کو شدید مشکلات سے دوچار کردیا ہے، جبکہ مال بردار گاڑیاں چلانا ٹرانسپورٹرز کے لیے مسلسل خسارے کا سودا بنتا جا رہا ہے۔
آل پاکستان گڈز ٹرانسپورٹ اونرز ایسوسی ایشن کے صدر محمد اویس چوہدری نے ڈیزل کی بڑھتی قیمتوں پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ مہنگا ایندھن ملک میں مہنگائی کے نئے دباؤ کی بڑی وجہ بن چکا ہے، کیونکہ اس کے باعث اشیائے ضروریہ کی ترسیل کے اخراجات میں نمایاں اضافہ ہوا ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ بڑھتے ہوئے آپریشنل اخراجات کے باعث متعدد مال بردار گاڑیاں دوبارہ سڑکوں سے ہٹ کر کھڑی ہونا شروع ہوگئی ہیں، جس سے ٹرانسپورٹ کا کاروبار شدید متاثر ہورہا ہے۔
گڈز ٹرانسپورٹرز نے حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ ریلیف کے نام پر پیچیدہ اسکیموں اور اعلانات کے بجائے پٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں میں براہِ راست کمی کی جائے۔
ٹرانسپورٹرز کا کہنا ہے کہ اگر ڈیزل کی قیمت میں کمی نہ کی گئی تو مزید گاڑیاں کھڑی کرنے اور کام بند کرنے پر مجبور ہوسکتے ہیں۔
ان کے مطابق ایندھن کی قیمتیں کم ہونے سے ہی اشیائے خورونوش کی ترسیل کے اخراجات کم اور عام آدمی تک ضروری اشیا نسبتاً سستے نرخوں پر پہنچانا ممکن ہوگا۔









