اسرائیلی حملے کے بعد اہم ملاقات کی تیاری
قطر کے وزیراعظم شیخ محمد بن عبدالرحمان الثانی کی جانب سے آج امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ سے ملاقات طے کی گئی ہے، جس میں اسرائیل کی جانب سے دوحہ پر کیے گئے حالیہ حملے کی مذمت، غزہ میں سیز فائر معاہدے کے امکانات اور یرغمالیوں کی رہائی جیسے حساس امور پر تفصیلی تبادلہ خیال کیے جانے کی توقع ظاہر کی جا رہی ہے۔
سلامتی کونسل کی قرارداد اور عالمی ردعمل
میڈیا رپورٹس کے مطابق اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کے پندرہ اراکین نے، اگرچہ اسرائیل کا براہِ راست نام نہیں لیا گیا، تاہم قطر پر ہونے والے حملے کو متفقہ طور پر مذموم قرار دیتے ہوئے ایک اہم قرارداد منظور کی ہے، جس کے ذریعے اس واقعے کو عالمی سطح پر امن کے عمل کے لیے خطرہ قرار دیا گیا ہے۔
قطری وزیراعظم کا مؤقف
اجلاس سے خطاب میں قطری وزیراعظم نے اس بات پر زور دیا کہ دوحہ پر حملہ نہ صرف ایک براہِ راست جارحیت تھی بلکہ اس کے ذریعے سفارتکاری کی توہین بھی کی گئی، جبکہ حماس رہنماؤں کو نشانہ بنا کر غزہ میں جنگ بندی کی کوششوں کو ناکام بنانے کی کوشش واضح طور پر کی گئی ہے۔ ان کا مزید کہنا تھا کہ قطر اپنے انسانی اور سفارتی کردار کو بغیر کسی ہچکچاہٹ کے جاری رکھے گا اور یہ عزم کیا گیا ہے کہ غزہ میں خونریزی روکنے کے لیے ہر ممکن قدم اٹھایا جائے گا۔
دوحہ حملہ اور اس کے نتائج
یہ امر بھی یاد رکھا جانا چاہیے کہ 9 ستمبر کو اسرائیل کی جانب سے قطر کے دارالحکومت دوحہ میں حماس رہنماؤں کے اجلاس کو نشانہ بنایا گیا تھا، جس کے نتیجے میں سینئر رہنما خلیل الحیا کے بیٹے اور معاون سمیت چھ افراد شہید ہوئے تھے، اور اس واقعے کے بعد خطے میں سفارتی ماحول مزید کشیدہ ہو گیا تھا۔
امریکی قیادت سے متوقع مذاکرات
میڈیا کے مطابق قطری وزیراعظم کی ملاقات صرف صدر ٹرمپ تک محدود نہیں رہے گی بلکہ نائب صدر جے ڈی وینس، وزیر خارجہ مارکو روبیو اور نمائندہ خصوصی اسٹیو وٹکوف کے ساتھ بھی اہم نشستیں شیڈول کی گئی ہیں، جن میں خاص طور پر یرغمالیوں کی رہائی اور غزہ کی موجودہ صورتحال پر مذاکرات کیے جانے متوقع ہیں۔









