نیٹو نے پولینڈ کی فضائی حدود میں روسی ڈرون کی دراندازی کے بعد یورپ کے مشرقی حصے کے دفاع کو مضبوط بنانے کیلئے نئے منصوبے کا آغاز کردیا۔
نیٹو نے “ایسٹرن سینٹر کمانڈ” کے قیام کا اعلان کر دیا، منصوبہ روسی ڈرونز کی پولینڈ کی فضائی حدود میں دراندازی کے بعد شروع کیا گیا ہے۔
غیر ملکی خبر رساں ادارے کی رپورٹ کے مطابق اس حوالے سے نیٹو سیکریٹری جنرل مارک روٹے کا کہنا ہے کہ یورپ کی مشرقی سرحد پر دفاعی تیاری مزید مضبوط کرینگے۔
انہوں نے کہا کہ ڈنمارک، فرانس، برطانیہ، جرمنی اور دیگر اتحادی ممالک کی شراکت سے یہ نیا فوجی ڈھانچہ چند روز میں فعال ہوجائے گا۔
امریکی جنرل الیکسس گرنکویچ نے کہا ہے کہ ایک اتحادی پر حملہ سب پر حملے کے مترادف ہے، ڈنمارک، فرانس، برطانیہ اور جرمنی مشن میں شریک ہونگے، مزید ممالک بھی متوقع ہیں۔
فرانسیسی صدر میکرون نے پولینڈ میں 3 رافیل طیارے بھیجنے کا اعلان کردیا، پولینڈ کے وزیر دفاع نے نیٹو کے فیصلے کو روسی پالیسی کیخلاف بروقت ردعمل قرار دیا۔
دوسری جانب روسی وزارتِ دفاع نے اس بات کی تردید کی کہ اس کا کوئی ہدف پولینڈ میں تھا روس کا مؤقف ہے کہ ڈرون حملے یوکرین پر تھے، پولینڈ کو نشانہ بنانے کا ارادہ نہیں تھا۔
انہوں نے کہا کہ ڈنمارک، فرانس، برطانیہ، جرمنی اور دیگر اتحادی ممالک کی شراکت سے یہ نیا فوجی ڈھانچہ چند روز میں فعال ہوجائے گا۔
پولش حکومت کے مطابق بدھ کی شب یوکرین پر روسی فضائی حملوں کے دوران 19 بار ڈرونز نے پولینڈ کی فضائی حدود کی خلاف ورزی کی، وزیراعظم ڈونلڈ ٹسک نے اس دراندازی کو جارحیت کا عمل قرار دیا









