Light
Dark

ایران مذاکرات کا خواہاں ہے، امریکا کے ساتھ ماضی میں تلخ تجربہ رہا: ایرانی وزیر خارجہ

تہران: ایرانی وزیر خارجہ سید عباس عراقچی کا کہنا ہے کہ ایران مذاکرات چاہتا ہے، ڈکٹیٹیشن نہیں، امریکا کے ساتھ ماضی میں برا تجربہ رہا۔

ایران کے وزیر خارجہ سید عباس عراقچی نے واضح کیا ہے کہ ایران اصولی بنیادوں پر مذاکرات چاہتا ہے، تاہم کسی قسم کی ڈکٹیٹیشن یا دباؤ کو قبول نہیں کیا جائے گا۔ ان کا کہنا تھا کہ امریکا کے ساتھ ایران کا ماضی کا تجربہ خوشگوار نہیں رہا۔

غیر ملکی ذرائع ابلاغ کے مطابق سید عباس عراقچی نے بتایا کہ امریکی ایلچی اسٹیو وٹ کاف کے ساتھ رابطہ قائم تھا، تاہم فی الحال یہ سلسلہ روک دیا گیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ایران اور امریکا کے درمیان جوہری مذاکرات کے پانچ دور مکمل ہو چکے ہیں، جبکہ چھٹا دور 15 جون کو ہونا تھا۔

انہوں نے کہا کہ ایران اور امریکہ کے درمیان جوہری مذاکرات کے پانچ راؤنڈز ہوچکے ہیں، ایران اور امریکہ کے درمیان جوہری مذاکرات کا چھٹا دور 15جون کو ہونا تھا۔ ایرانی وزیر خارجہ کا کہنا تھا کہ اسرائیل نے مذاکرات کے دوران ایران پر حملے کا منصوبہ بنایا امریکا نے ساتھ دیا، امریکا کے ساتھ ماضی میں برا تجربہ رہا۔

سید عباس عراقچی نے مزید کہا کہ ماضی میں امریکا نے بغیر کسی ٹھوس وجہ کے جوہری معاہدے سے یکطرفہ طور پر دستبرداری اختیار کی، جس سے مذاکراتی عمل کو نقصان پہنچا۔ انہوں نے واضح کیا کہ ایران مذاکرات کا حامی ہے، مگر کسی صورت ڈکٹیٹیشن قبول نہیں کرے گا۔