Light
Dark

حماس کی غزہ اور مغربی کنارے پر ٹرمپ کے مؤقف کی تعریف

حماس نے غزہ اور مغربی کنارے پر امریکا کے دوٹوک مؤقف کو سراہتے ہوئے جنگ بندی معاہدے کو کامیابی سے پورا کرنے کے عزم کا اعادہ کیا ہے۔
غزہ میں حماس تحریک کے ترجمان ہزیم قاسم نے ٹیلیگرام پیج پر جاری کردہ بیان میں کہا کہ حماس “اس معاہدے کی کامیابی کو یقینی بنانے اور زمین پر اس کے نفاذ کو یقینی بنانے کی خواہاں ہے”۔
قاسم نے زور دے کر کہا کہ حماس کو مصر ، قطر اور ترکی کی واضح ضمانتیں مل گئیں، نیز امریکا کی طرف سے براہ راست تصدیق بھی ملی کہ جنگ مؤثر طریقے سے ختم ہو گئی ہے۔
انہوں نے امریکی صدر ٹرمپ کے بیانات کی تعریف کرتے ہوئے کہا کہ واشنگٹن کا مقبوضہ مغربی کنارے کو اسرائیل سے منسلک کرنے کو مسترد کرنا “مثبت” ہے۔
انہوں نے اسرائیل پر اپنی ذمہ داریوں کو نبھانے کے لئے دباؤ کا مطالبہ کیا، خاص طور پر جارحیت کو روکنا، غزہ کی پٹی پر محاصرے کو اٹھانا اور انسانی امداد میں فوری اور مناسب داخلے کی اجازت دینا۔
قاسم نے یہ بھی متنبہ کیا کہ اسرائیل سیاسی عہدوں کو بلیک میل کرنے کے لئے انسانیت سوز کارڈ کا استعمال کرسکتا ہے ، اور تحریک “ناکہ بندی کے طویل سالوں کے دوران قبضے سے ہونے والی فاقہ کشی کی پالیسیوں کو روکنے کے لئے سنجیدہ اقدام” کا مطالبہ کرتی ہے۔
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے دوٹوک مؤقف اپنایا ہے کہ مقوضہ مغربی کنارے کا اسرائیلی الحاق نہیں ہونے دوں گا، امریکا مقبوضہ مغربی کنارے کے اسرائیلی الحاق کےخلاف ہے۔
ٹرمپ نے ٹائم میگزین کو انٹرویو میں نائب صدر جےڈی وینس کے مؤقف کی توثیق کرتے ہوئے کہا کہ امریکی پالیسی اسرائیلی انضمام کے سخت خلاف ہے عرب ممالک سے وعدہ کیا ہے کہ مقبوضہ مغربی کنارے کا الحاق نہیں ہو گا میں عرب ممالک سے وعدہ نبھاؤں گا۔