امریکی میڈیا نے دعویٰ کیا ہے کہ حماس نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو خط لکھ کر غزہ میں 60 روزہ جنگ بندی کی پیشکش کی ہے۔
فوکس نیوز نے اپنے ذرائع کے حوالے سے کہا ہے کہ حماس نے خط میں آدھے اسرائیلی یرغمالیوں کی رہائی کی پیشکش کی ہے۔ شرط کے طور پر امریکا کی ضمانت سے 60 دن کی جنگ بندی مانگی گئی ہے۔
رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ حماس کا خط اس وقت قطری حکام کے پاس موجود ہے جسے قطری حکام رواں ہفتے براہ راست ڈونلڈٹرمپ کو پہنچائیں گے۔
برطانیہ روانگی سے قبل میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے ٹرمپ نے کہا تھا کہ حماس نے یرغمالیوں کو ڈھال بنایا تو وہ بڑی مصیبت میں پڑ جائے گی۔
وائٹ ہاوس میں گفتگو کرتے ہوئے امریکی صدر نے یقین دلایا کہ اسرائیل قطر میں دوبارہ حملہ آور نہیں ہوگا۔
امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو نے فلسطینی مزاحمتی تنظیم حماس کو غزہ معاہدے کیلیے تجویز قبول نہ کرنے پر دبے الفاظ میں سنگین نتائج کی دھمکی دے دی۔
قطری نشریاتی ادارے الجزیرہ کی رپورٹ کے مطابق امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو نے حماس کو خبردار کرتے ہوئے کہا کہ مزاحمتی گروپ کے پاس غزہ میں جنگ بندی کے معاہدے کو قبول کرنے کیلیے بہت کم وقت ہے۔
اسرائیلی آرمی چیف ایال زامیر نے اعتراف کیا ہے کہ غزہ پر اگرچہ قبضہ 6 ماہ میں ممکن ہے، تاہم حماس کو شکست دینا مشکل ہے۔
ایال زامیر نے سیاسی قیادت کو واضح کیا کہ مجوزہ زمینی کارروائی سے کوئی فیصلہ کن نتیجہ حاصل نہیں ہوگا، ان کا کہنا تھا کہ وہ حکومت کے ساتھ نتائج کے بارے میں حقیقت پسندانہ توقعات شیئر کرنا چاہتے ہیں۔
فوجی سربراہ نے ایک بند کمرہ اجلاس میں کہا کہ حتمی فیصلہ کن کامیابی کے لیے غزہ کے دیگر علاقوں اور مرکزی کیمپوں تک کارروائی پھیلانی ہوگی، لیکن اس سے اسرائیل کو ایسے شہری چیلنجز کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے جنھیں فوج برداشت نہیں کرنا چاہتی۔
العربیہ کے مطابق اسرائیل کی جانب سے غزہ شہر پر زمینی حملے کے دوسرے دن حماس کے ایک ذریعے نے بتایا کہ القسام بریگیڈز نے اسرائیلی یرغمالیوں کو شہر کے مختلف مقامات پر منتقل کر دیا ہے۔
حماس کے مطابق اسرائیلی یرغمالیوں کی یہ نقل و حرکت ان کو زخمی ہونے سے بچانے کے لیے کی گئی ہے، کیوں کہ اسرائیل کی شدید بم باری کے سبب یرغمالیوں کی زندگی کو خطرہ ہے، اور ان کی زندگی پر غیر یقینی حالات چھائے ہوئے ہیں۔
یاد رہے کہ اسرائیلی یرغمالیوں کے خاندانوں کے فورم نے کل اسرائیلی وزیر اعظم نیتن یاہو پر الزام لگایا ہے کہ انھوں نے سیاسی وجوہ پر یرغمالیوں کو قربان کرنے کا فیصلہ کر لیا ہے، اور فوج اور سیکیورٹی اداروں کے رہنماؤں کی رائے کو نظر انداز کیا۔









