جنگ بندی کا امن معاہدہ ہونے کے باوجود اسرائیل اپنی ہٹ دھرمی سے باز نہ آیا، غزہ شہر پر اسرائیلی فوج کی جانب سے فائرنگ اور گولہ باری کا سلسلہ جاری ہے۔
غیرملکی میڈیا کا کہنا ہے اسرائیل نے جنگ بندی امن معاہدہ کی خلاف ورزی کی ہے، اسرائیلی کابینہ سے جنگ بندی معاہدہ کی منظوری کے باوجود اسرائیلی فوج نے آج صبح خان یونس پر فائرنگ اور گولہ باری کی جبکہ غزہ شہر پر اسرائیلی ہیلی کاپٹروں سے فائرنگ کا سلسلہ جاری ہے۔
حکام نے کہا ہے غزہ شہر میں خطرہ ابھی موجود ہے۔ فلسطینی سرحدی علاقوں میں ابھی واپس نہ آئیں۔ اسنائپرکی فائرنگ سے ایک اسرائیلی فوجی ہلاک ہوا ہے۔
دوسری جانب امریکا نے غز ہ جنگ بندی معاہدے کی نگرانی کیلئے 200 اہلکار تعینات کرنے کا فیصلہ کرلیا۔
ایک سینئر امریکی عہدے دار کا کہنا ہے کہ امریکا کی نگرانی میں 200 اہلکاروں پر مشتمل ایک بین الاقوامی فورس جنگ بندی کی نگرانی کرے گی۔
رپورٹس کے مطابق مشترکہ فورس کی تعیناتی کا مقام تاحال واضح نہیں ہوسکا تاہم امریکی عہدے دار نے واضح کیا کہ کوئی بھی امریکی فوجی غزہ نہیں بھیجا جائے گا۔
عہدیدار کے مطابق فورس میں مصر، قطر، ترکی اور ممکنہ طور پر متحدہ عرب امارات کے فوجی شامل ہوں گے، جن کا بنیادی کام جنگ بندی پر عملدرآمد کو یقینی بنانا، کسی ممکنہ خلاف ورزی یا دراندازی کی نگرانی کرنا ہوگا۔
ٹرمپ کے دورہ اسرائیل کا امکان، اسرائیلی پارلیمان سے خطاب متوقع
عہدے دار کا مزید کہنا تھا کہ امریکی سینٹرل کمانڈ اسرائیل میں ایک سول ملٹری کوآرڈینیشن سینٹر قائم کرے گی جو اس بین الاقوامی فورس کے رابطے اور انضمام کا مرکز ہوگا۔ یہ سینٹر انسانی امداد کی ترسیل کے ساتھ ساتھ سکیورٹی معاونت میں کردار ادا کرے گا۔
یہ فورس امریکی سینٹرل کمانڈکے سربراہ ایڈمرل بریڈ کوپر کی قیادت میں تشکیل دی جا رہی ہے۔









