عالمی ادارہ صحت (ڈبلیو ایچ او) نے دنیا بھر کے ممالک پر زور دیا ہے کہ وہ غزہ کے مریضوں کے لیے اپنے دروازے کھولیں تاکہ انہیں بروقت علاج کی سہولت فراہم کی جا سکے۔
عالمی ادارہ صحت کے سربراہ ٹیڈروس اذانوم گیبریئسس نے خبردار کیا ہے کہ اگر غزہ کے مریضوں کو علاج کے لیے بیرونِ ملک جانے یا مقبوضہ مغربی کنارے کے راستے طبی انخلاء کی اجازت نہ ملی تو مزید قیمتی جانیں ضائع ہو سکتی ہیں۔
سوشل میڈیا پر جاری ایک بیان میں ٹیڈروس اذانوم گیبریئسس نے بتایا کہ ڈبلیو ایچ او اور اس کے شراکت داروں نے جنگ کے آغاز سے اب تک 10 ہزار 600 سے زائد مریضوں کو غزہ سے نکالا ہے، جن میں 5 ہزار 600 سے زیادہ بچے شامل ہیں۔
انہوں نے مزید کہا کہ اس کے باوجود بڑی تعداد میں مریض اب بھی غزہ میں موجود ہیں جو مناسب طبی سہولیات حاصل کرنے کے لیے انخلاء کے منتظر ہیں۔
دوسری جانب غزہ وزارت صحت کے مطابق جولائی 2024 سے 28 نومبر 2025 کے درمیان طبی انخلاء کے انتظار میں 1092 مریض جان کی بازی ہار چکے ہیں، تاہم حکام کا کہنا ہے کہ یہ تعداد ممکنہ طور پر اصل تعداد سے کم ہو سکتی ہے۔
عالمی ادارہ صحت نے عالمی برادری سے فوری اور عملی اقدامات کا مطالبہ کیا ہے تاکہ غزہ میں انسانی بحران کو مزید سنگین ہونے سے روکا جا سکے۔









