Light
Dark

سی ای او کے الیکٹرک کو ہٹانے کے معاملے میں اہم پیش رفت

تفصیلات کے مطابق سندھ ہائیکورٹ میں صوبائی محتسب کی جانب سے سی ای او کے الیکٹرک مونس علوی کو ہراسانی کے الزام میں عہدے سے ہٹانے کے فیصلے کے خلاف دائر درخواست پر سماعت ہوئی۔
دورانِ سماعت فریقین نے ایک دوسرے پر غلط بیانی کے الزامات عائد کیے۔
سی ای او کے الیکٹرک کے وکیل بیرسٹر ایاز میمن نے مؤقف اختیار کیا کہ گورنر ہاؤس میں شکایت کنندہ کے وکیل نے مؤقف دیا کہ معاملہ عدالت میں زیر سماعت ہے اس لیے کارروائی نہ کی جائے، جس کی وجہ سے گورنر کے سامنے بھی سماعت التوا کا شکار ہے۔
تاہم شکایت کنندہ کے وکیل نے اس الزام کی تردید کی اور کہا کہ ہم گورنر کے بجائے ہائیکورٹ سے ہی فیصلہ چاہتے ہیں۔
جسٹس اقبال کلہوڑو نے ریمارکس دیے کہ صوبائی محتسب کا فیصلہ کالعدم قرار دے کر گورنر سندھ کو مقررہ مدت میں اپیل پر فیصلہ کرنے کی ہدایت دی جا سکتی ہے۔
اس موقع پر شکایت کنندہ کے وکیل نے تجویز سے اتفاق نہیں کیا اور کہا کہ سی ای او کے الیکٹرک کی درخواست قابلِ سماعت نہیں کیونکہ ان کی اپیل گورنر سندھ کے روبرو زیر التوا ہے۔
سی ای او کے الیکٹرک کے وکیل نے موقف اپنایا کہ اعلیٰ عدالتوں کے فیصلوں کی روشنی میں ہائیکورٹ ماتحت فورم کے فیصلے کالعدم قرار دے کر متعلقہ فورم کو رجوع کرنے کا کہہ سکتی ہے، کے الیکٹرک بین الصوبائی ادارہ ہے، لہٰذا صوبائی محتسب کو کارروائی کا اختیار ہی نہیں۔
عدالت نے فریقین کے دلائل سننے کے بعد صوبائی محتسب کے فیصلے کو معطل کرنے کے عبوری حکم نامے میں توسیع کرتے ہوئے مزید سماعت چار ہفتوں کے لیے ملتوی کر دی