Light
Dark

“عوام کی جیب پر ایک نیا ڈاکا”

کراچی، جو کبھی روشنیوں کا شہر کہلاتا تھا، آج سندھ حکومت کی نا اہلی اور بے حسی کے سبب اندھیروں اور بد حالیوں میں ڈوبا ہوا ہے۔ اب اسی شہر پر ایک اور ظلم مسلط کر دیا گیا ہے “ای چالان سسٹم”۔ اسے ہر گز ترقی، قانون پسندی یا جدیدیت نہیں کہا جا سکتا، بلکہ یہ ایک سوچا سمجھا طریقہ ہے عام شہریوں کی جیب سے پیسہ بٹورنے کا، وہ پیسہ جو پہلے ہی مہنگائی، بے روزگاری اور کرپشن کی نذر ہو چکا ہے۔
سوال یہ ہے کہ کیا سندھ حکومت نے ای چالان کے نفاذ سے پہلے ان بنیادی مسائل کو حل کیا جن کی وجہ سے ٹریفک کی بد حالی پیدا ہوئی اور متواتر ہوتی چلی گئی…. لکیا کبھی کسی ڈمپر والے کا چالان ہوا ہے جو دن رات سڑکوں پر دندناتے پھرتے ہیں آئے روز عوام کو روندتے ہیں؟ کیا کسی چنگچی رکشہ والے کو جرمانہ کیا گیا ہے جو ٹریفک قوانین کی دھجیاں اڑاتے ہیں اور حادثات کا سبب بنتے ہیں؟ جہاں دل کرتا ہے رک جاتے ہیں, جب دل چاہتا ہے بغیر کسی اشارے کے مڑ جاتے ہیں… ظاہر ہے، نہیں! کیوں کہ ان سے نہ کوئی کمائی ہو سکتی ہے، نہ کوئی “ریونیو”۔
اور کیا سندھ حکومت نے کراچی کو یورپ جیسی سڑکیں بنا کر دیں؟ کیا گڈاپ، کورنگی، لیاری، لانڈھی، نارتھ کراچی یا اورنگی کی سڑکیں ایسی ہیں کہ وہاں کیمرے لگا کر شہریوں کو قانون کا پابند بنایا جائے؟ اگر سڑکوں پر گڑھے، نالے ابلتے ہوئے پانی، اور ٹوٹے ہوئے فلائے اوور ہیں تو وہاں ای چالان کی بجائے پہلے سڑکوں کا علاج ہونا چاہیئے۔ مگر نہیں,ل علاج نہیں، صرف “چالان” ہوتا ہے، کیوں کہ علاج سے حرام کی کمائی نہیں ہوتی۔
کیا سندھ حکومت نے پولیس اور ٹریفک پولیس کو کرپشن سے پاک کر دیا؟ کیا ان حرام خور افسران کی جگہ “فرشتے” بھرتی کر لیے گئے؟ نہیں، وہی پرانے “چائے پانی” والے سپاہی، وہی رشوت خوری، وہی ظلم وہی حرام زدگی وہی لوٹ مار۔ اب بس فرق اتنا ہے کہ رشوت کا ایک حصہ ای چالان کے نام پر “ڈیجیٹل” کر دیا گیا ہے۔
کیا کسی نے کبھی عوام کو ٹریفک قوانین کی آگاہی مہم کے ذریعے سمجھانے کی کوشش کی؟ کیا اسکولوں، کالجوں، یا میڈیا پر کوئی بامقصد مہم چلائی گئی؟ نہیں، کیوں کہ عوام کو تعلیم دینا ان کے منصوبوں میں سرے سے شامل ہی نہیں۔ تعلیم یافتہ عوام سوال کرتے ہیں، اور سندھ حکومت کو سوال کرنے والے عوام پسند نہیں۔
اور کیا سندھ کے تمام وزراء انسان کے بچے بن گئے ہیں؟ کیا ان کے محکمے کرپشن سے پاک ہو گئے ہیں؟ کیا وہ عوامی خدمت کے لیے اپنی شاہانہ گاڑیوں، پروٹوکول، اور عیاشیوں سے باز آئے ہیں؟ جواب ہے پونکا۔
کراچی کے میئر صاحب؟ نمبر ون جھوٹا… کیا اس نے کراچی کو جنت نظیر بنا دیا ہے؟ کیا کچرا ختم ہو گیا، نالے صاف ہو گئے، پانی آنا شروع ہو گیا؟ اگر نہیں، تو یہ ای چالان کا نظام آخر کس منہ سے لایا گیا ہے؟
ابے کوئی شرم ہوتی ہے کوئی حیا ہوتی ہے.
سچ تو یہ ہے کہ یہ پورا نظام صرف اور صرف عوام کی جیبوں پر ایک اور ڈاکا ڈالنے کے لیے لایا گیا ہے۔ وہ عوام جن کے پاس نہ روزگار ہے، نہ سہولیات، نہ انصاف۔ جن کی تن خواہیں ختم ہونے سے پہلے ہی بجلی، گیس، پانی کے بلز کھا جاتے ہیں۔ اور اب یہ سو کالڈ ای چالان.
سندھ حکومت نے اپنے لیے “ڈیجیٹل لوٹ مار” کا ایک اور نیا راستہ اپنایا ہے ترقی کے نام پر چوری، قانون کے نام پر ظلم، اور نظام کے نام پر نری بد دیانتی۔
یہ وہی حکومت ہے جو ترقی کی باتیں تو امریکا, پیرس( یورپ) جیسی کرتی ہے، مگر کارکردگی ایتھوپیا اور کینیا سے بھی بدتر ہے۔ جہاں ادارے کھنڈر، سسٹم ناکام، اور حکمران صرف مفاد پرست ٹولے کی شکل میں باقی رہ گئے ہیں۔
ای چالان، اگر واقعی قانون کی بالا دستی کے لیے ہوتا، تو سب پر یک ساں لاگو ہوتا۔ مگر یہاں تو صرف شریف، تن خواہ دار اور مڈل کلاس شہری ہی ہدف بنتے ہیں، کیوں کہ وہ احتجاج نہیں کرتے، نہ روڈ بلاک کرتے ہیں۔
یہ چالان نہیں، ظلم ہے۔ یہ نظام نہیں، نا انصافی ہے۔ اور یہ ترقی نہیں، صرف سندھ حکومت کی نئی کمائی کی مشین ہے جو عوام کے خون پسینے سے چلتی ہے…. دل بہت دکھا ہوا ہے اس سے آگے اگر لکھا تو سندھ حکومت کو صرف گالیاں ہی نکلیں گی.