Light
Dark

اقوام متحدہ میں وزیراعظم کا تاریخی خطاب: ننھے شہیدوں کا ذکر کرکے عالمی ضمیر جھنجھوڑ ڈالا

تفصیلات کے مطابق وزیراعظم شہباز شریف نے اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی سے تاریخی خطاب کرتے ہوئے مقبوضہ کشمیر اور فلسطین میں مظلوموں کی آواز کو بھرپور انداز میں دنیا کے سامنے پیش کیا۔
وزیراعظم نے اپنی تقریر میں اسرائیلی بمباری میں شہید ہونے والی فلسطینی بچی ہند رجب کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ اس کی پکار آج بھی دنیا کے کانوں میں گونجتی ہے, جب اس نے اپنی جان بچانے کے لیے پکارا تھا۔
انہوں نے بتایا کہ اسرائیلی فوج نے اس گاڑی پر 335 گولیاں برسائیں، جس میں ننھی ہند اپنی جان بچانے کی کوشش کر رہی تھی۔
وزیراعظم نے سوال اٹھایا کہ کیا کوئی یہ سوچ سکتا ہے کہ ایک معصوم بچی پر بھی کوئی رحم نہ کرے؟ انسانیت کایہ المیہ ہے کہ وہ ننھی ہندرجب کو بچانےمیں ناکام ہوئی،
شہباز شریف نے بھارتی جارحیت میں شہید ہونے والے سات سالہ ارتضیٰ عباس کا بھی ذکر کیا اور کہا کہ ’’ننھے تابوت سب سے بھاری ہوتے ہیں، میں نے بھی ایک سات سالہ شہید کا جنازہ اٹھایا ہے‘‘۔
وزیراعظم نے عالمی برادری کو للکارتے ہوئے کہا کہ فلسطین کی تباہی عالمی ضمیر پر بدنما داغ ہے اور اسرائیلی بربریت تاریخ کا سیاہ ترین باب ہے۔
انہوں نے کشمیر کے عوام کے حقِ خودارادیت کے عزم کو دہرایا اور کہا کہ بھارت کی جارحیت اور سندھ طاس معاہدہ توڑنے کی کوشش جنگ کے مترادف ہے۔
انہوں نے واضح کیا کہ دنیا پیچیدگیوں کے طوفان میں گھری ہے لیکن پاکستان ہمیشہ امن کی صدا بلند کرتا رہے گا، البتہ اپنے دفاع پر کوئی سمجھوتہ نہیں کرے گا