امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی مسلم رہنماؤں سے ملاقات کو ترک صدر رجب طیب اردوان نے انتہائی مفید قرار دے دیا۔
ترک صدر رجب طیب اردوان کا کہنا تھا کہ میٹنگ کے نتائج سے خوش ہیں، ملاقات انتہائی مفید ثابت ہوئی ہے۔
واضح رہے کہ صدر ٹرمپ کی عرب اور مسلم رہنماؤں سے ملاقات کا مشترکہ اعلامیہ جاری کیا جائے گا۔ اہم ملاقات میں غزہ سمیت مشرق وسطیٰ کی صورتِ حال پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا۔
امریکی صدر کی مسلم ملکوں کے سربراہوں سے ملاقات تقریباً 50 منٹ تک جاری رہی، ملاقات کے بعد رہنما بات چیت کیے بغیر ہی چلے گئے۔
امریکی صدر سے ملاقات میں پاکستان، ترکیہ، قطر، سعودی عرب، متحدہ عرب امارات، مصر، اردن اور انڈونیشیا کے سربراہان نے شرکت کی۔ مسلمان ممالک کے رہنماؤں نے غزہ میں جنگ بندی پر تجاویز پیش کیں۔
ٹرمپ کا اس موقع پر کہنا تھا کہ غزہ جنگ کا خاتمہ چاہتے ہیں اور غزہ سے تمام یرغمالیوں کی واپسی چاہتے ہیں۔
دوسری جانب ترک صدر رجب طیب اردوان نے اقوامِ متحدہ کی جنرل اسمبلی کے اجلاس میں عالمی برادری کے ضمیر کو جھنجھوڑ دیا، انھوں نے غزہ میں اسرائیلی جارحیت سے زخمی اور معذور بچوں کی تصاویر دکھا دیں۔
جنرل اسمبلی میں اپنے خطاب میں ترکیہ کے صدر اردوان نے کہا اسرائیل گزشتہ 23 ماہ سے غزہ میں ہر گھنٹے ایک بچے کو قتل کر رہا ہے، فلسطینی بچے اسرائیلی بمباری کا نشانہ بن رہے ہیں۔
اردوان نے دنیا کے ممالک پر زور دیا کہ وہ فلسطینی ریاست کو تسلیم کریں، انھوں نے کہا غزہ پر اسرائیلی بمباری انسانیت کے خلاف جرم ہے، دنیا کی طاقت ور ریاستیں اگر خاموش رہیں گی تو یہ مجرمانہ غفلت شمار ہوگی۔









