امریکی محکمہ خارجہ نے جاری بیان میں کہا کہ علی قصیر کی معلومات فراہم کرنے والوں کیلئے انعام کا اعلان کیا گیا ہے، علی قصیر حزب اللہ اور پاسداران انقلاب قدس فورس کے ساتھی قرار دیے گئے ہیں۔
علی قصیر پر حزب اللہ اور قدس فورس کیلئے فنڈنگ اور پابندیوں سے بچنے کا الزام ہے، امریکی الزام کے مطابق علی قصیر نے حزب اللہ اور قدس فورس کے درمیان مالی روابط میں کردارادا کیا۔
امریکا اس سے پہلے بھی حزب اللہ کی فنڈنگ کرنے والوں اور ان کی قیادت کو نشانہ بنانے کیلئے انعامات کا اعلان کرچکا ہے۔
دریں اثنا افغان طالبان کے ترجمان ذبیح اللہ مجاہد نے کہا ہے کہ امریکا کو بگرام بیس کبھی نہیں دیں گے، اپنی سرزمین کا ایک انچ بھی نہیں دینگے۔
افغان طالبان نے ٹرمپ کے بگرام ایئربیس حوالے کرنے کے مطالبے کو پھر مسترد کردیا ہے، ذبیح اللہ مجاہد کا کہنا تھا کہ دنیا ہمیں جانتی ہے افغان سرزمین کا ایک انچ بھی نہیں دینگے،
امریکا کے 20 سالہ قبضے میں افغان عوام نے برے دن دیکھے ہیں، امریکا یاد رکھے برے اقدامات کے برے نتائج ہوتے ہیں









