امریکا میں حکومت کا شٹ ڈاؤن 22ویں روز میں داخل ہونے کے بعد بحران شدت اختیار کرگیا ہے۔
غیرملکی خبررساں ادارے کی رپورٹ کے مطابق شٹ ڈاؤن امریکی تاریخ کا دوسرا طویل ترین بن گیا ہے اور کانگریس میں ڈیڈلاک برقرار ہے۔
ڈیموکریٹس اور ریپبلکنز کے درمیان معاہدے کے کوئی آثار نظر نہیں آرہے، ڈیموکریٹس کی صحت کی سہولتوں کے لیے سبسڈی میں توسیع کی تجویز پر زور دیا ہے۔
ڈیموکریٹس کا موقف ہے کہ سبسڈی ختم ہونے سے لاکھوں افراد علاج سے محروم ہوسکتے ہیں۔ صدر ٹرمپ اور ریپبلکنز کا موقف ہے کہ حکومت کھلنے کے بعد ہی صحت فنڈنگ پر بات ہوگی۔
شٹ ڈاؤن کے باعث کانگریس میں حکومت کی فنڈنگ کے بلز منظور نہ ہوسکے، 23 لاکھ سرکاری ملازمین بغیر تنخواہ یا جبری رخصت پر ہیں۔
ماہرین معیشت نے انتباہ کیا ہے کہ طویل شٹ ڈاؤن امریکی معیشت کو نقصان پہنچا سکتا ہے، ٹرمپ انتظامیہ نے مختلف اداروں میں بڑے پیمانے پر برطرفیوں کی کوشش شروع کردی ہے۔
قانونی ماہرین کے مطابق برطرفیوں کا اقدام متنازع اور قانونی طور پر مشکوک ہے









