پچھلے سو سالوں میں افغانستان کے درجنوں جھنڈے ایک ہی جیسے انجام سے دو چار ہوتے رہے
افغانستان کے یہ رنگ برنگے جھنڈے ، جو ہر چند سال بعد بدلتے رہے یہ اس بات کے گواہ ہیں کہ جس کا بھی دل چاہا، یہاں آیا، قبضہ کیا اور نیا جھنڈا گاڑ دیا،ان میں سے کسی ایک کو بھی افغانی نہ روک سکے ،
آج وہی لوگ ہمیں پانچ ہزار سالہ تاریخ پڑھانے نکلے ہیں، جنہیں اپنی سو سال کی تاریخ میں یہ بھی یاد نہیں ان کے وجود میں کس کس نے کتنےجھنڈے گاڑھے ہیں









