Light
Dark

1 کروڑ روپے تک کا قرضہ : پاکستانی فری لانسرز کے لیے بڑی خوشخبری

پاکستانی فری لانسرز اسٹارٹ اپ بوسٹ پلان کے تحت 1 کروڑ روپے تک کے بلاسود قرضے حاصل کرسکیں گے۔
تفصیلات کے مطابق وزارتِ آئی ٹی و ٹیلی کمیونیکیشن نے فری لانسرز اور اسٹارٹ اپس کے لیے ایک بڑا اقدام اٹھاتے ہوئے ملک بھر میں 250 جدید کو ورکنگ سینٹرز قائم کرنے کا منصوبہ پیش کر دیا ہے، جو پاکستان کے ڈیجیٹل انقلاب میں اہم سنگِ میل ثابت ہوگا۔
وزارت نے بتایا کہ اب تک 40 سینٹرز جون 2025 تک مکمل کیے جا چکے ہیں، جبکہ موجودہ مالی سال میں مزید 47 سینٹرز کے قیام کا ہدف مقرر کیا گیا ہے۔ منصوبے کے تحت فروری 2027 تک 250 فعال سینٹرز ملک کے مختلف شہروں میں قائم ہوں گے۔
یہ منصوبہ وزیراعظم کے اسٹارٹ اپ سپورٹ پروگرام کا حصہ ہے، جس کے تحت نوجوانوں کو جدید سہولیات، تربیت اور نیٹ ورکنگ کے مواقع فراہم کیے جائیں گے تاکہ پاکستان کے ڈیجیٹل انٹرپرینیورشپ ایکو سسٹم کو فروغ دیا جا سکے۔
نوجوان کے لیے ایک اور بڑی سہولت کے طور پر حکومت نے 10 ملین روپے تک کے بلاسود قرضے دینے کا اعلان کیا ہے، تاکہ وہ مالی مشکلات کے بغیر اپنے منصوبے آگے بڑھا سکیں۔
پاکستان سافٹ ویئر ایکسپورٹ بورڈ نے سرکاری و نجی اداروں کو دعوت دی ہے کہ وہ ان کو ورکنگ سینٹرز کے قیام میں شراکت داری کریں۔
یہ منصوبہ پبلک پرائیویٹ پارٹنرشپ (PPP) ماڈل کے تحت چلایا جا رہا ہے، جس میں ٹرینرز کی فیس حکومت اور نجی شراکت دار مل کر ادا کریں گے تاکہ تربیت کا عمل پائیدار رہے۔
ذرائع نے بتایا کہ بڑے شہروں میں قائم ہر سینٹر کا رقبہ تقریباً 3,500 مربع فٹ ہوگا، جہاں جدید انفراسٹرکچر اور پرجوش ورک ماحول فراہم کیا جائے گا، جب کہ چھوٹے شہروں میں خصوصی طور پر تربیت، رہنمائی اور کاروباری مشاورت پر توجہ دی جائے گی۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ قومی کو ورکنگ سینٹرز کا قیام پاکستان کی ڈیجیٹل معیشت میں نئی جان ڈالے گا اور جدت، مواقع اور اشتراک کا نیا دور شروع کرے گا، جو ٹیکنالوجی پر مبنی مستقبل کی جانب ایک بڑا قدم ہے