وزیر دفاع خواجہ آصف نے کہا ہے کہ افغان طالبان کی جانب سے کالعدم ٹی ٹی پی کے حوالے سے مثبت بیانات کے باوجود زمینی حقائق میں کوئی واضح تبدیلی نظر نہیں آتی۔
ان کے مطابق افغان طالبان کے بیانات اور اقدامات میں تضاد پایا جاتا ہے، اس لیے پاکستان کو عملی اقدامات اور تحریری یقین دہانیوں کو زیادہ اہمیت دینی چاہیے۔
انہوں نے کہا کہ اس طرح کا پیغام میڈیا رپورٹ کے بجائے افغان طالبان کی اعلیٰ قیادت کی طرف سے براہ راست آنا چاہیے کیونکہ افغان طالبان اتنے زیادہ مکسڈ سگنل دیتے ہیں کہ اُن پر اعتبار کرنا خطرناک ہوگا۔









