تحریر :سنبل ناز
دس بیس سال بعد خوشی غمی میں آنے والے ہمارے یورپ امریکہ برطانیہ میں رہنے والے دوست احباب پاکستان کے حالیہ مسائل اور ان کے حل سے بلکل نہیں تو کافی حد تک بے خبر ہیں ہمیں یورپ برطانیہ امریکہ جیسی جمہوریت کا درس دیتے ہیں۔
ان سب سے اتنا کہنا چاہوں گا کہ کیا لیمبرگینی کسی کھوتی ریڑی والے کو دی جا سکتی ہے ؟ کیا فیراری کسی ٹانگے والے کو دی جا سکتی ہے کہ اب سے تم یہ چلایا کرو ؟؟؟
ہرگز نہیں ❗️
اس طرح کے قومی شعور رکھنے والی قوم جس کا ہیرو شف شف سرکار مائیک پر پھونک مار مار کر صرف صرف پنجاب میں 1100 کروڑ کی پراپرٹی کا مالک بن گیا ہو جہاں بپا جانی کے موئے مبارک تبرک کے طور پر آن لائن بک رہے ہوں جہاں لیبرا ڈوگ سے رمل خان تک اور پاکپتن سے لاس اینجلس تک رام پائیاں کرنے والا بانی ریاست مدینہ ثانی ٹھہرے۔
میں نہ آپکا وقت اور نہ اپنے الفاظ ضائع کرتے ہوئے سیدھا مدعا پر آتی ہوں ۔
ریاست نے ہر صورت فیصلہ کیا ہے کہ ایسی اجتماعی دانش رکھنے والی قوم کو برطانیہ یورپ جیسی جمہوریت دینا ایسا ہی ہے جیسے کسی مست ہاتھی کو فائیو اسٹار ہوٹل میں ڈنر دینا۔
لہذا فی الحال انہیں جمہوریت کی بجائے وٹ والا ڈانڈا دے کر پہلے اس قابل بنایا جائے کہ یہ کھیرا کاٹنے کا اسلامی طریقہ بتانے والے پپا جانی کے 15 ملین فالورز ، اور فضائل دستی بیان کر کے مشہور ہونے والے ڈاکٹر عفان قیصر کے پانچ ملین فالورز اور اسی طرح کھوتے پر براستہ افغانستان برطانیہ جانے والے عمران ریاض کے 15 ملین اور مرے ابے کا اکڑا ہوا کھبا آنگوٹھا لگو کر جائیداد اپنے نام لگوا کر حق و انصاف کی جنگ لڑنے والے ڈاکٹر معید پیرزادہ کے کروڑوں فالورز کو ان کے اپنے شعور کے رحم و کرم پر چھوڑنا چڑیا گھر میں بندروں والا پنجرا کھلا چھوڑنے سے بھی زیادہ خطرناک ہے اس طرح کی سیکڑوں مثالیں اور ہیں کہ میں کہتی جاؤں اور آپ پڑھتے جائیں۔
مگر اب آتے ہیں اصل مدعے کی طرف تو وہ یہ ہے کہ ریاست پاکستان نے روس چین سعودی عرب ایران جیسا مکس نظام ریاست اپنا لیا ہے مولویوں اور اپنے بگڑے دیگر احباب کو سعودیہ کی طرح اور دیگر احباب کو روس ، چین اور ایران کی طرح ڈیل کیا جائے گا ملک میں جلسے جلوس دھرنے ہنگامہ پھیلانے والے فتنے کو مکمل صاف کر دیا جائے گا۔
یاد رکھنا دوستو ظرف اور اوقات کے مطابق چیز دی جائے گی آسان الفاظ میں کہوں تو تعداد کی بجائے معیار کو دیکھا جائے گا ۔
یہ جو ملک سے باہر ہیں اور ڈالرز کے چکر میں یوتھیوں کو روزانہ کی بنیاد پر بےوقوف بناتے ہیں ان کو طیفی بٹ کی طرح لے کر آیا جائے گا اس حوالے سے امریکہ سمیت دیگر ممالک سے بات جیت ہو رہی ہے ۔
اب کوئی نواز شریف کو ووٹ کو عزت دو کا طعنہ دے ، شہباز شریف اور زرداری کی تصویر لگا لگا کر برا بھلا کہے، فیلڈ مارشل پر جملے کسے جس سے جو ہوتا وہ اپنا زور لگائے ریاست اپنا زور لگائے گی اور پھاڑ کر گلے میں ڈال کر ڈھول کی طرح بجا دے گی ۔
دیکھو دوستو کسی کو اچھا لگے یا برا ریاست خود کو ٹھیک کرنے جا رہی ہے وہ اس کے لیے درست سمت کا انتخاب کر کے اپنے سفر کا آغاز کر چکی ہے اب وہ کسی کے لیے کسی صورت نہیں رکے گی ۔
ایک دفعہ پھر بتا دوں کہ وہ مولویوں اور ریاست کے اندر ریاست بنانے والے ملک ریاض فیض حمید اور اس قماش کے دیگر کرداروں کو بھی جناب محمد بن سلمان نے جس طرح شہزادے ٹھیک کیے تھے ایسے ٹھیک کر رہی ہے ۔
ریاست اب پہلے اس قوم کو انسان کا بچہ بنانے کے بعد جمہوریت کے سکول میں پلے گروپ میں داخل کروائے گی۔









