اقوامِ متحدہ میں ایران کے مستقل مندوب امیر سعید ایروانی نے انکشاف کیا ہے کہ ایران اور امریکا کے درمیان ممکنہ معاہدے کو حتمی شکل دینے کے لیے پاکستان کے ذریعے سفارتی رابطے اور مذاکرات کا سلسلہ جاری ہے۔
ایران کی سرکاری خبر رساں ایجنسی کے مطابق سلامتی کونسل کے اجلاس کے بعد گفتگو کرتے ہوئے ایرانی سفیر نے کہا کہ دونوں ممالک کے درمیان خیالات اور تجاویز کا تبادلہ جاری ہے، تاہم تاحال کسی حتمی مسودے پر اتفاق نہیں ہو سکا۔ ان کے مطابق پاکستان اس عمل میں ایک اہم رابطہ کار کا کردار ادا کر رہا ہے۔
امیر سعید ایروانی نے مزید کہا کہ جنگ بندی سے متعلق مجوزہ مسودے میں لبنان سمیت تمام متعلقہ علاقوں کو شامل کیا جائے گا۔ دوسری جانب ایرانی صدر مسعود پزشکیان نے کہا ہے کہ ایران نے نہ مزاحمت کا راستہ چھوڑا ہے اور نہ ہی مذاکرات کے دروازے بند کیے ہیں، کیونکہ قومی سلامتی اور عوام کا امن ان کی اولین ترجیح ہے۔
ادھر امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا کہنا ہے کہ ایران جوہری پروگرام سے متعلق اہم رعایتیں دینے پر آمادہ دکھائی دیتا ہے اور ایک مثبت معاہدہ چاہتا ہے۔ انہوں نے یہ بھی دعویٰ کیا کہ اسرائیلی وزیراعظم بنیامین نیتن یاہو کو مزید جنگی کارروائیوں کے حوالے سے متنبہ کر دیا گیا ہے۔









