کراچی کے علاقے پی ای سی ایچ ایس کے رہائشی نوجوان میر رضا علی کی گلستانِ جوہر سے لاش ملنے کے واقعے کی تحقیقات جاری ہیں۔ اطلاعات کے مطابق میر رضا نیٹ فلکس اکاؤنٹس کے ساتھ ڈیجیٹل کرنسی کا کاروبار بھی کرتے تھے اور متعدد افراد کی سرمایہ کاری اسی شعبے میں کروا رکھی تھی۔ ابتدا میں وہ سرمایہ کاروں کو منافع ادا کرتے رہے، تاہم دسمبر 2025 سے کاروبار میں نقصان شروع ہوا جو اپریل میں مزید بڑھ گیا۔ ذرائع کے مطابق خسارے کے باعث انہوں نے مختلف افراد سے قرض لینا شروع کیا اور مبینہ طور پر 5 سے 8 کروڑ روپے کے مقروض ہوگئے، جبکہ بیرونِ ملک مقیم ایک دوست کی 75 لاکھ روپے کی سرمایہ کاری پر بھی منافع ادا نہیں کیا جا سکا۔









