ڈنمارک کی وزیر اعظم میٹے فریڈرکسن کا بچوں اور سوشل میڈیا سے متعلق ایک بیان عالمی سطح پر بحث کا موضوع بن گیا ہے۔ ایک ویڈیو وائرل ہونے کے بعد ان کے اس مؤقف پر شدید ردعمل سامنے آیا، جس میں انہوں نے کہا کہ اگر آج ان کے چھوٹے بچے ہوتے تو وہ انہیں بغیر نگرانی سوشل میڈیا استعمال کرنے کے بجائے سگریٹ نوشی کو ترجیح دیتیں۔
یہ بیان دراصل رواں ماہ مصنوعی ذہانت اور بچوں کے تحفظ سے متعلق ایک کانفرنس کے دوران دیا گیا تھا، تاہم ویڈیو حالیہ دنوں میں سوشل میڈیا پر وائرل ہونے کے بعد اس پر تنقید اور حمایت دونوں کا سلسلہ شروع ہو گیا۔ فریڈرکسن کا مؤقف تھا کہ بچوں کے لیے غیر محدود اور غیر نگرانی سوشل میڈیا کا استعمال ایک سنگین مسئلہ بن چکا ہے، جس کے ممکنہ اثرات پر سنجیدگی سے غور کرنے کی ضرورت ہے۔
ان کے بیان نے والدین، ماہرین تعلیم اور ٹیکنالوجی ماہرین کے درمیان نئی بحث چھیڑ دی ہے کہ بچوں کی ذہنی اور سماجی صحت پر سوشل میڈیا کے اثرات کس حد تک نقصان دہ ہو سکتے ہیں۔









