لاہور / کراچی / اسلام آباد: پٹرول کی قیمت میں اضافے پر شہر شہر عوام دہائی دینے لگے اور کہا “سستا ہو یا مہنگا، لینا تو مجبوری ہے”۔
تفصیلات کے مطابق پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافے پر ملک بھر میں عوام کی جانب سے شدید ردِعمل سامنے آیا۔
شہریوں کا کہنا ہے کہ پٹرول کی قیمت بڑھنے سے روزمرہ اشیاء کی قیمتوں اور ٹرانسپورٹ کے کرایوں میں بھی اضافہ ہو جائے گا، جس سے مہنگائی کا بوجھ مزید بڑھ جائے گا۔
شہریوں کا کہنا تھا کہ پیٹرول کی قیمت میں کمی بیشی ہوتی رہتی ہے، کبھی پیٹرول سستا کرتے ہیں پھربڑھا دیتےہیں ، جو عوام کی مشکلات میں اضافہ کر رہی ہے۔
عوام نے کہ اکہ پیٹرول کی قیمت میں کمی بیشی ہوتی رہتی ہے،شہری کبھی پیٹرول سستا کرتے ہیں پھربڑھا دیتے ہیں۔
ایک بزرگ شہری نے کہا کہ “پٹرول سستا ہو یا مہنگا، لینا تو پڑتا ہے، لیکن آمدن وہی ہے اور اخراجات بڑھتے جا رہے ہیں۔”
ایک نوجوان نے شکوہ کیا کہ “ہزار روپے دیہاڑی ہے، اس میں سے پانچ سو کا پٹرول ڈلواتے ہیں، گھر میں کیا لے کر جائیں؟”
کراچی میں شہریوں کا کہنا تھا کہ پٹرول کی قیمت بڑھنے سے اشیائے خوردونوش سمیت ٹرانسپورٹ کے کرائے بھی بڑھ جائیں گے۔
ایک رکشہ ڈرائیور نے کہا کہ کرایہ بڑھانے پر مسافر ناراض ہوتے ہیں، جبکہ پٹرول مہنگا ہونے سے روزی کمانا مشکل ہو گیا ہے۔
ادھر اسلام آباد میں شہریوں نے مطالبہ کیا کہ حکومت پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافہ واپس لے اور عوام کو ریلیف فراہم کرے۔
عوام کا کہنا تھا کہ مہنگائی نے جیتے جی مار دیا ہے اور اگر پٹرول کی قیمتوں پر قابو نہ پایا گیا تو زندگی مزید مشکل ہو جائے گی۔
گذشتہ روز حکومت نے پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافے کا اعلان کیا تھا ، پیٹرول کی قیمت میں دوروپے تینتالیس پیسے فی لیٹر اضافہ کیا گیا ، جس کے بعد پیٹرول کی نئی قیمت دو سو پینسٹھ روپے پینتالیس پیسے ہوگئی۔
اسی طرح ڈیزل کی قیمت میں تین روپے دو پیسے فی لیٹر کااضافہ کیاگیا ہے۔ جس کے بعد ڈیزل کی نئی قیمت دو سو اٹھہتر روپے چوالیس پیسےہوگئی ہے
نوٹیفکیشن کے مطابق نئی قیمتوں کا اطلاق پندرہ نومبر تک ہوگا۔









