اب سفر زمین پر نہیں، آسمان میں ہوگا، نہ ٹریفک سگنل کا انتظار، نہ ٹریفک جام کا جھنجھٹ، دبئی میں فلائنگ ٹیکسی اگلے برس کے پہلے مہینے سے باقاعدہ پروازیں شروع کر دے گے۔
رپورٹس کے مطابق دبئی میں اڑنے والی ٹیکسیاں اگلے سال جنوری سے باقاعدہ پروازیں شروع کر دیں گی، فلائنگ ٹیکسی دبئی ایئرپورٹ سے اڑان بھرے گی، جس میں 4 مسافروں کے بیٹھنے کی گنجائش ہے۔
بجلی سے چلنے والی ٹیکسی ایک چارج پر 160 کلو میٹر کا فاصلہ طے کر سکتی ہے، اس کی حد رفتار 320 کلومیٹر فی گھنٹہ ہے، فضائی ٹیکسی کا مقصد 2030 تک سفر کو 25 فی صد سیلف ڈرائیونگ بنانا اور کاربن کے اخراج کو کم کرنا ہے۔
امریکی کمپنی کے ساتھ مل کر دبئی کی روڈ اینڈ ٹرانسپورٹ اتھارٹی نے ایک معاہدہ کیا ہے، جس کے تحت ’الیکٹرک ورٹیکل ٹیک آف اینڈ لینڈنگ‘ طیاروں کے ذریعے شہری فضائی ٹیکسی سروس کے اجرا کی تیاری چل رہی ہے۔
اس سروس کے لیے دبئی میں چار ’ورٹی پورٹس‘ بنائے جا رہے ہیں، جن میں پام جمیرہ، دبئی مرینہ، دبی انٹرنیشنل ایئرپورٹ، اور ڈاؤن ٹاؤن دبئی شامل ہیں۔ ٹیسٹ پروازیں پہلے ہی مکمل ہو چکی ہیں، اور لائسنسنگ، ضابطے، اور انفراسٹرکچر کی تیاری مکمل کی جا رہی ہے۔
دبئی انٹرنیشنل ایئرپورٹ سے پام جمیرہ تک فلائنگ ٹیکسی کا سفر تقریباً 12 منٹ میں ممکن ہو جائے گا، جو کار کے ذریعے 45 منٹ کا ہے، سروس کی بکنگ ممکنہ طور پر موبائل ایپ کے ذریعے ہوگی، جیسا کہ اوبر ایپ یا دیگر ٹرانسپورٹ ایپس کے ذریعے۔ ابتدائی دور میں یہ سروس زیادہ تر بلند آمدن والے صارفین کے لیے ہو سکتی ہے کیوں کہ ٹیکنالوجی ابھی مکمل پیمانے پر نہیں پہنچی









