سندھ حکومت کی جانب سے شہر قائد میں متعارف کرائے گئے ای چالان پر تنقید کا سلسلہ تیز ہو گیا ہے۔
سندھ حکومت کی جانب سے جاری ای چالان پر تنقید کا سلسلہ تیز ہو گیا ہے۔ شہریوں سمیت حزب اختلاف کی جماعتیں اور دیگر حلقے اس کو پی پی حکومت کی جانب سے شہری عوام کی جیبوں پر ڈاکا ڈالنے کے مترادف قرار دے رہے ہیں۔
ایم کیو ایم پاکستان کے رہنما اور سینیٹر فیصل سبز واری نے بھی ای چالان کے نام پر بھاری بھرکم جرمانوں پر کڑی تنقید کرتے ہوئے سماجی رابطوں کی ویب سائٹ ایکس پر اپنے ردعمل کا اظہار کیا ہے۔
فیصل سبز واری نے اپنی پوسٹ میں لکھا ہے کہ وزیر داخلہ سندھ کی گفتگو بتا رہی ہے کہ ای چالان کا نظام ضروری اقدام لیے بغیر تھوپا گیا۔ صرف تین روز میں کئی ہزار چالان کے ذریعہ کروڑوں روپے کے جرمانے لگا دیے گئے ہیں۔
ایم کیو ایم سینیٹر لکھتے ہیں کہ کراچی کے مقابلے میں لاہور سڑکوں کی تعمیر، دیکھ بھال سمیت ڈرائیونگ لائسنس کے حصول میں نسبتاً سختی کے معاملے میں بھی بہتر ہے۔ لیکن وہاں صوبائی حکومت نے ای چالان شہریوں کو مزید عاجز کرنے کا ذریعہ نہیں بنایا۔
انہوں نے کہا کہ پہلے ہی کراچی میں ٹریفک چالان کی رقم پورے صوبے سے حاصل زرعی ٹیکس سے زیادہ ہے۔ اس پر انفراسٹرکچر سیس، پراپرٹی ٹیکس، خدمات پہ ٹیکس، آکٹرائے ضلع ٹیکس وغیرہ میں کراچی کا مکمل حصہ اگر اپنی جماعت کی میئر کے منصب پہ رہتے ہوئے ہی دے دیں تو کراچی کا بھلا بھی ہو جائے۔
سندھ کے وزیر داخلہ کی گفتگو بتا رہی ہے کہ “ای چالان” کا نظام ضروری اقدام لیے بغیر تھوپا گیا ہے۔ ۳ روز میں کئی ہزار چالان اور رقم کروڑوں میں؟کراچی کے مقابلے میں لاہور شہر سڑکوں کی تعمیر اور دیکھ بھال، ڈرائیونگ لائسنس کے حصول میں نسبتا سختی کے معاملے میں بہت بہتر ہے









