پشاور : ڈی جی آئی ایس پی آر لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف چوہدری کا کہنا ہے کہ خیبرپختونخوا میں جان بوجھ کردہشت گردوں اور سہولت کاروں کوجگہ دی گئی، گمراہ کن بیانیہ بنایا گیا، جس کا خمیازہ صوبے کےعوام اپنا خون دے کر بھگت رہے ہیں۔
تفصیلات کے مطابق ڈی جی آئی ایس پی آر لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف چوہدری نے پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا خیبر پختونخوا میں سیکیورٹی صورتحال کا تفصیلی جائزہ لیا گیا ہے، پشاور آنے کا مقصد کے پی کے عوام کے درمیان دہشت گردی کے خلاف جنگ کا احاطہ کرنا ہے، میں افواج پاکستان کی جانب سے تجدید عزم کرنے آیا ہوں۔
ڈی جی آئی ایس پی آر کا کہنا تھا کہ گزشتہ دو دہائیوں سے پاکستان بالخصوص خیبرپختونخوا دہشت گردی کے ناسور سے نبردآزما ہے، آج کی پریس کانفرنس کا مقصد صوبہ کے پی میں سیکیورٹی صورتحال کاجائزہ لینا ہے۔
خیبرپختونخوا میں انٹیلی جنس بیسڈ آپریشنز کی تفصیلات
ترجمان نے کہا کہ ہم نے کے پی کے عوام سے ملکر دہشت گردی کو جڑ سے اکھاڑ پھینکنا ہے، کے پی کے عوام دہشت گردی کا بہادری سے مقابلہ کررہے ہیں، خیبر پختونخوا میں شہید ہونیوالوں کو سلام پیش کرتے ہیں، بہادر سپوتوں نے اپنے خون سے بہادری کی تاریخ رقم کی ہے۔
انہوں نے بتایا کہ سال 2024 کے دوران خیبرپختونخوا میں 435 انٹیلی جنس بیسڈ آپریشنز کیے گئے، جبکہ روزانہ کیے جانے والے آپریشنز کی اوسط تعداد 40 ہے، دہشت گردی کو جڑ سے اکھاڑ پھینکنے کے عزم کی تجدید کرتے ہیں۔
پاک فوج کے ترجمان نے مزید بتایا کہ رواں سال 2025 میں خیبرپختونخوا میں 10 ہزار 115 انٹیلی جنس بیسڈ آپریشنز کیے گئے، جن کے دوران 917 دہشت گردوں کو جہنم واصل کیا گیا، ان آپریشنز کے دوران 516 قیمتی جانوں نے جامِ شہادت نوش کیا، جب کہ 2024 میں آپریشنز کے دوران 577 جوانوں نے اپنی جانوں کا نذرانہ پیش کیا۔
10 سال کے دوران سب سے زیادہ پچھلے سال خارجیوں کومارا گیا
ڈی جی آئی ایس پی آر کا کہنا تھا کہ 10 سال کے دوران سب سے زیادہ پچھلے سال خارجیوں کو مارا گیا، دہشت گردوں کی جانب سے 2 سال میں 30 افغان خود کش بمباروں کو استعمال کیا گیا۔
کے پی میں جان بوجھ کر دہشتگردوں اور سہولت کاروں کو جگہ دی گئی
لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف چوہدری نے کہا کہ کے پی میں جان بوجھ کر دہشتگردوں اور سہولت کاروں کو جگہ دی گئی، گورننس اور عوامی فلاح و بہبود کو جان بوجھ کر کمزور کیا گیا، گمراہ کن بیانیہ بنایا گیا جس کا خمیازہ آج تک کے پی عوام اپنے خون سے دے رہے ہیں ، دہشت گردوں کی جانب سے 2 سال میں 30 افغان خود کش بمباروں کو استعمال کیا گیا۔
دہشت گردی ختم نہ ہونے کے عوامل
دہشتگردی کے عوامل کے حوالے سے ترجمان کا کہنا تھا کہ وہ کون سےعوامل ہیں جن کی وجہ سے دہشتگردی آج موجود ہے، ہہلی وجہ نیشنل ایکشن پلان پرعمل نہ ہونا ہے ،









