رواں برس 2025 میں اب تک سونا بین الاقوامی سطح پر 50 فیصد تک مہنگا ہو چکا ہے عالمی ماہرین نے اس حوالے سے بڑا دعویٰ کر دیا۔
سونا جو کبھی متوسط طبقہ خرید سکتا تھا۔ تاہم چند سالوں میں تیزی سے بڑھتی قیمتوں خصوصاً رواں برس اس کی قیمتیں ہر روز بلندی کا نیا ریکارڈ بنانے کے بعد اب یہ متوسط طبقے کے لیے صرف ایک خواب ہی بن کر رہا گیا ہے۔
دنیا بھر میں معاشی تغیرات خصوصاً رواں برس امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا دوسری مدت کے لیے صدر منتخب ہونے کے بعد ٹیرف کے نام پر دنیا بھر سے تجارتی تنازع شروع کرنے اور ڈالر کی قدر غیر مستحکم ہونے کے بعد سونے کی قیمتوں نے 2025 میں نئی بلندیوں کو چھو لیا ہے۔
سونا جو صرف خواتین کے لیے زیورات میں استعمال ہی نہیں ہوتا بلکہ دنیا بھر میں ایک محفوظ سرمایہ کاری مانا جاتا ہے۔ 2025 کے ابتدائی 9 ماہ کے دوران 50 فیصد مہنگا ہو کر تاریخ کی بلند ترین سطح 4 ہزار ڈالر فی اونس بھی عبور کر چکا ہے۔
عالمی ماہرین کا سونے کی قدر مسلسل بڑھنے پر کہنا ہے کہ یہ دھات اب صرف محفوظ سرمایہ کاری ہی نہیں بلکہ ہر موقع کا اثاثہ بن چکا ہے۔
گزشتہ ایک سال میں عالمی سرمایہ کاروں نے بھی سونے میں بڑے پیمانے پر سرمایہ کاری کی ہے جس کے باعث گولڈ فیوچرز نے آج 4000 ڈالر کی حد عبور کر لی۔ اسی وجہ سے بدھ کے روز ایشیا میں بھی اسپارٹ ریٹ بڑھ گیا۔
غیر ملکی خبر رساں ایجنسی کا کہنا ہے کہ امریکی صدر ٹرمپ کی پالیسیوں نے سونے کے رجحان میں نمایاں کردار ادا کیا اور اپریل میں ٹرمپ کی جانب سے عالمی تجارتی جنگ شروع کرنے کے بعد سونے کی قیمت مزید تیزی سے بڑھنا شروع ہوئی۔
سرمایہ کاروں نے غیر یقینی معاشی حالات میں قابل بھروسہ اثاثوں کی طرف رخ کیا۔ امریکا، جاپان اور فرانس میں سیاسی بحرانوں نے بھی سونے کی قیمت میں اضافہ کیا۔
رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ 2020 سے 2024 کے دوران سونا 1600 سے 2100 ڈالر فی اونس کے درمیان رہا۔
2024 میں 30 فیصد اضافہ ہوا، مگر 2025 میں اس نے گزشتہ چار برسوں سے کہیں زیادہ تیزی دیکھی گئی۔
پاکستان میں آج سونے کی قیمت
ماضی میں سونا صرف معاشی بے یقینی میں بڑھتا تھا، اس باراسٹاک مارکیٹ کے ساتھ بڑھ رہا ہے۔ تاہم امریکی اور عالمی جغرافیائی صورتحال کے باعث سرمایہ کاروں کیلیے سونا ترجیحی انتخاب بن چکا ہے۔









