Light
Dark

ویڈیو رپورٹ: سندھ حکومت ورلڈ بینک سے ملنے والے 300 ارب کا حساب دے

گرین لائن پر کام کو روکنا اور وفاق سے ایم کیو ایم اراکین کو ملنے والے 20 ارب کے ترقیاتی پیکج پر عمل درآمد میں رکاوٹ ڈالنے پر ایم کیو ایم اراکین پر برہم ہیں۔
رکن قومی اسمبلی خواجہ اظہار نے گرین لائن اور پی آئی ڈی سی ایل (PIDCL) کو ترقیاتی کام سے روکنے کے عمل کو پیپلز پارٹی کی ہٹ دھرمی قرار دیتے ہوئے کہا کہ ایسے پاکستان نہیں چل سکتا۔
پی آئی ڈی سی ایل کو کام کرنے سے روکنے پر ایم کیو ایم نے سندھ حکومت سے ورلڈ بینک سے ملنے والے 300 ارب کا حساب بھی مانگ لیا۔ خواجہ اظہار نے کہا کہ سندھ حکومت نے ورلڈ بینک کی خطیر رقم کو ڈکار لیا ہے، اور ہم عالمی بینک کے ساتھ اس پر براہ راست مذاکرات کریں گے۔
ایم کیو ایم رہنما نے پیپلز پارٹی کی پالیسی کو منافقانہ قرار دیتے ہوئے وزیر اعظم سے مداخلت کرتے ہوئے کراچی کو اس کا حق دلوانے کا مطالبہ بھی کیا۔ ادھرسابق مئیر وسیم اختر کراچی حیدرآباد کے ترقیاتی کام رکنے پر گورنر سندھ کامران ٹیسوری سے ملے، گورنر سندھ نے بھی پی آئی ڈی سی ایل کے تحت رکے کام جلد ہونے، معاملے پر صدر اور وزیر اعظم سے بات کرنے کی یقین دہانی کراتے ہوئے کہا کہ کراچی کی ترقی سے ہی پاکستان کی ترقی جڑی ہے۔