دم دار ستارے کے زمین کی طرف بڑھنے کی خبروں کے بعد سوشل میڈیا پر افواہوں کا بازار گرم ہو گیا ہے، حقیقت کیا ہے۔
نیویارک پوسٹ میں گزشتہ ماہ ایک خبر شائع ہوئی تھی، جس میں بتایا گیا تھا کہ دم دار ستارہ، جس کو ’’تھری آئی اٹلس‘‘ کا نام دیا گیا۔ وہ زمین کی طرف بڑھ رہا ہے۔
یہ خبر شائع ہونے کو تھی کہ سوشل میڈیا پر افواہوں کا بازار گرم ہو گیا اور طرح طرح کی خبریں دنیا بھر میں پھیلنے لگیں۔ یہاں تک کہ سوشل میڈیا پر یہ افواہ تک پھیلائی جا چکی ہے کہ اس سے زمین پر بڑی تباہی پھیلے گی۔
اس سارے معاملے کی حقیقت کیا ہے۔ اس حوالے سے ایک غیر ملکی خبر رساں ایجنسی نے رپورٹ کیا ہے کہ دم دار ستارہ ناسا کے اٹلس ٹیلی اسکوپ نے یکم جولائی 2025 کو دریافت کیا تھا اور ناسا کے مطابق یہ دم دار ستارہ زمین سے 270 ملین کلومیٹر 21 جولائی کو ہمارے کرہ ارض سے سب سے زیادہ قریب آیا تھا۔
ناسا کے مطابق دمدار ستارہ زمین اور سورج کے درمیانی فاصلے سے ڈھائی گنا زیادہ دوری پر رہا اور یہ رواں برس 30 اکتوبر کو سورج کے قریب ترین مقام تک پہنچے گا۔
ہبل ٹیلی اسکوپ کے مطابق دم دار ستارے کا حجم 440 میٹر سے 5.6 کلومیٹر تک ہو سکتا ہے اور یہ 2 لاکھ 10 ہزار کلومیٹر فی گھنٹہ کی رفتار سے بڑھ رہا ہے۔
اسپیس ایجنسیاں مذکورہ دم دارے ستارے ’’تھری آئی اٹلس‘‘ کو زمین کے لیے بے ضرر قرار دے رہی ہیں اور یورپین اسپیس ایجنسی نے بھی تصدیق کی ہے کہ دم دار ستارہ زمین یا ہمارے نظام شمسی کے کسی بھی سیارے کے لیے خطرہ نہیں ہے









