Light
Dark

بنوں حملے میں شہید ہونے والے ایس ایس جی کمانڈو میجر عدنان اسلم کی باہمت والدہ کو بیٹے کی شہادت پر فخر ہے

ان کا کہنا ہے کہ شہادت میرے بیٹے کی خواہش تھی، دس بیٹے بھی ہوتے تو وطن پر قربان کردیتی۔
اے آر وائی نیوز کے خصوصی پروگرام اعتراض ہے میں میجر عدنان اسلم شہید کے اہل خانہ کو مدعو کیا گیا، اس موقع پر ان کے والد اور دیگر لواحقین نے ہمت کی اعلیٰ مثال قائم کرتے ہوئے صبر و شکر کا اظہار کیا۔

میجر عدنان اسلم کے والد محمد اسلم نے کہا کہ میجرعدنان کی شہادت کا سن کا سب کو کہا کہ رونا نہیں، صبر و شکر کا مظاہرہ کرنا ہے، ہم میجر عدنان کی شہادت کے بعد آج تک صبر و شکر قائم رکھے ہوئے ہیں۔

ان کی والدہ نے بتایا کہ جب میرے زخمی بیٹے کو آپریشن کیلیے لے جایا جارہا تھا تو اس میں بات کرنے کی طاقت نہیں تھی تو اس نے اپنی آنکھوں کے اشارے سے مجھے یہ بتانا چاہا کہ ماں حوصلہ رکھنا سب ٹھیک ہوگا۔
شہید میجر عدنان کی باہمت اور بلند حوصلہ رکھنے والی والدہ نے کہا کہ گھر والے نہیں سمجھ سکے، میں ماں تھی جو بیٹے کی بات سمجھ گئی، مجھے اشارہ مل گیا تھا اور میں اُس کی آنکھوں میں دیکھ سکتی تھی جو کسی اور کو نظر نہیں آیا۔
انہوں نے بتایا کہ جب مجھے یہ پتہ چلا کہ میرے بیٹے کی ٹانگ کاٹ دی گئی ہے تو میں نے تب بھی اللہ کا شکر ادا کیا کہ اے اللہ جس میں تو راضی اس میں میں راضی۔ میر ےوطن پر میرے دس بیٹے قربان ہوں تو مجھے کوئی غم نہیں۔

میجر عدنان شہید کی نانی نے بتایا کہ عدنان بچپن سے زیادہ تر میرے پاس ہی رہا فوج میں جانے کے بعد جب وہ کہیں پوسٹنگ پر جاتا تھا تو کئی مہینے گزر جاتے تھے اس سے ملے ہوئے پھر وہ مجھے اپنے پاس بلا لیا کرتا تھا۔
نانی نے بتایا کہ میں اس کو کہا کرتی تھی کہ مت جاؤ تو کہتا تھا کہ مجھے مت منع کرو میں نے اس ملک کی خاطر شہید ہونا ہے۔

میجر عدنان شہید کی چھوٹی بہن نے بتایا کہ جب ہمارے بڑے بھائی کا انتقال ہوا تو عدنان بھائی کی عمر کچھ زیادہ نہیں تھی لیکن انہوں نے مجھے دلاسہ دیتے ہوئے کہا تھا کہ تم میری بیٹی ہو حالانکہ وہ خود بھی چھوٹے تھے اور جب وہ خود دو بچوں کے باپ ہیں تو ہمیشہ ویسی ہی محبت دیتے رہے۔
شہید کی بہن نے اس عزم کا اظہار کیا کہ جس طرح ہم نے اس وطن عزیز کیلیے سب سے پیارا اور دلیر بیٹا دیا اگر آئندہ بھی پاکستان کو ضرورت پڑی تو کسی قربانی سے دریغ نہیں کریں گے۔

میجر عدنان شہید کے سسر اور ماموں کا جذبہ بھی قابل دید ہے، انہوں نے بتایا کہ میرا بھانجا میرا شاگرد بھی تھا میں نے اسے پیرا گلائیڈنگ سکھائی، انہوں نے میجر عدنان کی اہلیہ اور اپنی کے بارے مینں بتاتے ہوئے کہا کہ جب ہم اس کا جسد خاکی لارہے تھے تو اس نے کامل ہمت کا مظاہرہ کرتے ہوئے بہت صبر سے کام لیا اور سب کو کہا کہ عدنان کی شہادت کی قبولیت اور مغفرت کی دعا کریں