اسلام آباد میں نیا ٹیکس لگانے کی تجویز
اسلام آباد میں منی بجٹ کے خدشات شدت اختیار کرتے جا رہے ہیں اور حکومتی ذرائع کے مطابق وفاقی حکومت نے بین الاقوامی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) سے اجازت طلب کی ہے کہ میونسپل ٹیکس کے نفاذ کے ذریعے ایک نیا مالی بوجھ شہریوں پر ڈالا جا سکے تاکہ جناح میڈیکل کمپلیکس جیسے بڑے منصوبے کو ممکن بنایا جا سکے۔
آئی ایم ایف سے اجازت کی درخواست
ذرائع نے بتایا ہے کہ حکومت نے اسلام آباد میں میونسپل ٹیکس لگانے کی باقاعدہ تیاری شروع کر دی ہے اور اس مقصد کے لیے آئی ایم ایف سے تحریری طور پر تفصیلات بھی فراہم کرنے کو کہا گیا ہے، جبکہ عالمی ادارے نے اس درخواست پر مزید وضاحتیں مانگی ہیں تاکہ مالیاتی ڈھانچے اور ممکنہ آمدنی کے بارے میں یقین دہانی حاصل کی جا سکے۔
منصوبے کی لاگت اور فنڈنگ کے چیلنجز
اطلاعات کے مطابق جناح میڈیکل کمپلیکس کی تعمیر پر 213 ارب روپے لاگت آنے کا تخمینہ لگایا گیا ہے، جسے تین سال کے اندر مکمل کرنے کا ہدف طے کیا گیا ہے، تاہم حکومتی خزانے کو مالی وسائل کی کمی کے باعث شدید مشکلات کا سامنا ہے اور اسی وجہ سے ضمنی گرانٹس، متبادل فنڈز کی منتقلی اور بیرونی بانڈز کے ممکنہ منافع پر غور کیا جا رہا ہے۔
ہنگامی فنڈز اور متبادل ذرائع
ذرائع نے انکشاف کیا ہے کہ حکومت اس منصوبے کے لیے ہنگامی فنڈز سے 30 ارب روپے جاری کرنے پر غور کر رہی ہے، جبکہ وفاقی وزیر احسن اقبال نے اس بات کی تصدیق کی ہے کہ منصوبے کے لیے پبلک سیکٹر ڈویلپمنٹ پروگرام (پی ایس ڈی پی) کے بجائے بیرونی ذرائع سے فنڈنگ فراہم کرنے کی تجویز بھی زیر غور ہے تاکہ مالی دباؤ کو کم کیا جا سکے۔
ابتدائی سرمایہ کاری اور منصوبہ بندی
یہ بھی بتایا گیا ہے کہ حکومت نے ابتدائی طور پر 3.5 ارب روپے اس منصوبے کے لیے فراہم کیے ہیں جو جناح میڈیکل کمپلیکس کمپنی کے قیام اور عملے کی بھرتی پر خرچ کیے جائیں گے، جبکہ 76 ملین ڈالر کے پانڈا بانڈز کے ممکنہ منافع کو بھی مستقبل میں منصوبے کی تکمیل کے لیے مختص کرنے پر غور جاری ہے۔









