عالمی ڈونرز سے حاصل فنڈز پر وضاحت
اسلام آباد میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے وفاقی وزیر منصوبہ بندی احسن اقبال نے اس مؤقف کو یکسر مسترد کر دیا کہ پاکستان 2022 کے تباہ کن سیلابوں کے بعد عالمی عطیہ دہندگان سے 10.9 ارب ڈالر کی معاونت حاصل کرنے میں ناکام رہا ہے، اور کہا گیا کہ اس سلسلے میں بے بنیاد دعووں سے قومی ترقیاتی عمل کو نقصان پہنچانے کی کوشش کی جا رہی ہے۔
وزیر خزانہ کے بیان پر ردعمل
جب وزیر خزانہ محمد اورنگزیب کے اس بیان کا حوالہ دیا گیا کہ پاکستان شدید سیلاب کے بعد قابلِ سرمایہ کاری منصوبے بروقت پیش کرنے میں ناکام رہا تھا، تو احسن اقبال نے وضاحت کی کہ ایسی تمام آراء زمینی حقائق کے برعکس ہیں کیونکہ بحالی کے منصوبے پہلے ہی منظور کیے جا چکے ہیں اور عملی سطح پر ان پر کام جاری ہے۔
فنڈز کے استعمال اور منصوبوں کی تفصیل
وفاقی وزیر کے مطابق سندھ اور بلوچستان میں متاثرہ علاقوں کے لیے کل 6.32 ارب ڈالر کی رقم تین سال کی مدت میں خرچ کی جائے گی، اور یہ منصوبے مقررہ وقت کے اندر مکمل کرنے کے لیے مختلف مراحل میں عملدرآمد کے تحت لائے جا رہے ہیں، جس سے نہ صرف بنیادی ڈھانچے کی بحالی ممکن ہوگی بلکہ لاکھوں متاثرہ خاندانوں کی زندگیوں کو بھی سہارا ملے گا۔
سی پیک اور ML-1 منصوبہ
احسن اقبال نے مزید کہا کہ پاکستان اور چین نے باہمی مشاورت کے بعد مین لائن ون (ML-1) منصوبے کے لیے کثیرالملکی عطیہ دہندگان کو شامل کرنے پر اتفاق کیا ہے تاکہ منصوبے کی مالی معاونت کو مزید مضبوط بنایا جا سکے، اور اس سے خطے میں تجارتی و معاشی سرگرمیوں کو بھی نئی رفتار ملے گی۔









