سیلاب متاثرین کیلئے بڑے ریلیف پیکج کا اعلان
اسلام آباد (9 ستمبر 2025): وفاقی حکومت کی جانب سے سیلاب متاثرین کو فوری ریلیف فراہم کرنے کے سلسلے میں اہم اقدامات کا فیصلہ کیا گیا ہے، جس کے تحت بجلی کے بلوں پر عائد ٹیکسز کے خاتمے اور کسانوں کیلئے خصوصی پیکج کی تیاری پر عملی کام شروع کر دیا گیا ہے۔
بجلی کے بلوں پر ٹیکسز کی معافی
میڈیا رپورٹس کے مطابق وفاقی وزیر برائے غذائی تحفظ رانا تنویر نے اعلان کیا ہے کہ سیلاب سے متاثرہ خاندانوں کو براہ راست ریلیف دینے کے لئے بجلی کے بلوں پر ٹیکسز معاف کرنے کا عمل فی الفور شروع کیا جا رہا ہے، جبکہ لینڈ ریونیو سے متعلق ٹیکسز صوبائی حکومتوں کی جانب سے ختم کیے جائیں گے۔ اس موقع پر یہ بھی بتایا گیا کہ بجلی کے اضافی بلوں کا تفصیلی نوٹس لیا جائے گا اور ایسے تمام ٹیکسز و ڈیوٹیز کو ختم کرنے کی تجاویز پر غور جاری ہے جو عوام پر مزید بوجھ ڈالنے کا سبب بن رہی ہیں۔
مزید ٹیکسز کے خاتمے پر غور
وفاقی وزیر نے وضاحت کی کہ انکم ٹیکس، اضافی ٹیکسز اور ریٹیلر سیلز ٹیکس کو بھی سیلاب متاثرہ علاقوں کے صارفین کے بجلی بلوں سے ہٹانے پر سنجیدگی سے غور کیا جا رہا ہے، تاکہ ان مشکل حالات میں زیادہ سے زیادہ سہولت فراہم کی جا سکے۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ وفاقی حکومت ہر ممکن ریلیف دینے کیلئے تیار ہے اور سیلاب زدگان کی بحالی کو اولین ترجیح دی جا رہی ہے۔
کسانوں کیلئے خصوصی پیکج
وزیر نے یہ بھی اعلان کیا کہ سیلاب زدہ علاقوں میں فصلوں کے نقصانات کے تخمینے کیلئے ایک جامع سروے جاری ہے، جو آئندہ 7 سے 10 دنوں میں مکمل کر لیا جائے گا، اور اس کے بعد کسان پیکج کا باقاعدہ اعلان کیا جائے گا۔ بتایا گیا ہے کہ ابتدائی ڈیٹا کے مطابق ہر فصل کو ایک سے تین فیصد تک نقصان پہنچا ہے، جبکہ گجرانوالہ ڈویژن میں 18 فیصد تک تباہی ریکارڈ کی گئی ہے، جس میں سب سے زیادہ نقصان چاول کی فصل کو ہوا ہے۔
حکومتی اقدام
حکومتی اقدامات سے واضح ہوتا ہے کہ سیلاب متاثرین کو براہ راست ریلیف فراہم کرنے اور کسانوں کے نقصانات کے ازالے کے لئے سنجیدہ کوششیں کی جا رہی ہیں، اور اس ضمن میں ٹیکسز کی معافی اور خصوصی پیکجز جیسے اقدامات متاثرہ عوام کیلئے فوری سہولت کا باعث بنیں گے۔









