زمین کے مدار میں کافی عرصے سے دوسرے چاند کی باتیں کی جارہی تھیں اب ناسا کے سائنسدانوں کی جانب سے اس کی تصدیق کردی گئی۔
امریکی خلائی ادارے ناسا نے سورج کے گرد گردش کرتا ایک پتھر دریافت کیا ہے جو کہ نہ صرف چاند کی طرح ہوبہو دکھتا ہے بلکہ زمین کے بھی قریب ہے، کہکشاں کی وسعت میں نئی دریافت شدہ خلائی چٹان کو 2025 پی این 7 کا نام دیا گیا ہے۔
دلچسپ بات یہ ہے کہ مذکورہ سیارچہ یا پتھر سورج کے گرد اسی رفتار سے زیرگردش ہے جس رفتار سے زمین گردش کررہی ہے اس لیےاسے نصف چاند کا نام دیا گیا ہے۔
مزید پڑھیں: رواں سال کے پہلے چاند گرہن کا آغاز ، کیا آسمان سرخ ہوجائے گا؟
یہ پتھر زمین کے ساتھ چاند کی مانند حرکت کرتا دکھائی دیتا ہے اور سائنس دانوں کی مانیں تو ان کا کہنا ہے کہ یہ زمین کے ساتھ سن 2083 تک رہے گا یعنی تقریباً 58 سال تک اسکا اور زمین کا مزید ساتھ برقرار رہے گا۔
ماہرین فلکیات نے بتایا کہ یہ سیارچہ یا پتھر زمین سے کم از کم 4 ملین کلومیٹر کے فاصلے پر ہوتا ہے،جبکہ اس کا دور ترین فاصلہ 17 ملین کلومیٹر تک جا سکتا ہے۔
2025 پی این 7 نامی اس پتھر کا حجم تقریباً 18 سے 36 میٹر کے درمیان ہے اور اس خلائی چٹان سے زمین کسی قسم کا خطرہ نہیں ہے۔
ناسا کا کہنا ہے کہ زمین سے قریب اس کی دریافت مستقبل میں زمین کے قریب موجود دیگر خلائی اجسام کے بارے میں ہماری سمجھ کو بہتر بنانے میں اہم کردار ادا کرے گی، اس سے یہ واضح ہوتا ہے کہ زمین کے قریب خلا میں اب بھی کئی چھوٹے مگر اہم اجسام موجود ہیں۔
یہ اجسام یوں تو انسانی آنکھ سے پوشیدہ ہیں اور بظاہر بے ضرر بھی ہیں، مگر ان پر کی جانے والی تحقیق مستقبل میں زمین کے دفاعی نظام کافی سود مند ثابت ہو سکتی ہے









