پیغام صبا لائی ہے دربارِ نبی سے
آیا ہے بلاوا مجھے سرکارِ نبی سے
یہ نعت ہر ہر سامع کو متاثر کر گئی۔ شمشاد بیگم کی شہرت آسمانی رفعتوں کو چھونے لگی۔ اس مشہور نعت کے خالق ولی صاحب تھے۔ میٹرک کے بعد وہ میو اسپتال میں ملازم ہو گئے۔ اس دوران ۱۹۳۲ء میں ان کا شوق انہیں ایک گرامو فون کمپنی تک لے گیا جہاں مختصر سے میں انہوں نے لا تعداد نعتیں، غزلیں، گیت اور بھجن ریکارڈ کروائے۔ ان کی ایک نعت بہت مقبول ہوئی جسے نامور موسیقار غلام حیدر کی بیوی امراؤ بیگم نے ترنم سے پڑھا تھا: “میرا سلام لے جا۔”
ولی صاحب کو فلم نگری میں استاد کا درجہ حاصل تھا۔ اس نگر کے کئی افراد ان کے تلامذہ میں شامل تھے۔ ولی صاحب کی پیدائش ۱۹۰۸ء میں پونا میں ہوئی جہاں ان کے والد عبد الکریم خان لودھی مدرس تھے۔ بعد ازاں وہ بہ سلسلۂ ملازمت لاہور منتقل ہوئے جہاں ولی صاحب کے بچپن اور جوانی کا زمانہ بیتا۔ نغمہ نگار ناظم پانی پتی ان کے چھوٹے بھائی تھے جو ان کی دیکھا دیکھی فلم نگری میں آئے۔ گرامو فون کمپنی سے کامیابی حاصل کرنے کے بعد وہ فلم نگری کی طرف متوجہ ہوئے اور بمبئی اور لاہور میں ۵۰ کے قریب فلموں کے گیت یا مکالے وغیرہ تحریر کیے۔ مثلاً مجنوں، سورگ کی سیڑھی، جیون جیوتی، پردیسی ڈھولا، گل بکاؤلی، یملا جٹ، منگتی، سوہنی کمہارن، خزانچی، قسمت، گھر کی عزت، دوسری بیوی، چکوری، دکھ سکھ، شرون کمار، دیکھو جی، پتلی، ہیر رانجھا، پنا، بیوی، زمانے کی ہوا، گڈی گڈا وغیرہ۔
انہوں نے ایک درجن کے قریب ذاتی فلمیں بھی بنائیں جن کے ہدایت کار وہ خود تھے۔ انہوں نے اردو اور پنچابی دونوں زبانوں میں لکھا۔ ان کا کلام اس دور کے ادبی پرچوں ادبِ لطیف، نیرنگِ خیال، عالمگیر، ادبی دنیا وغیرہ میں باقاعدگی سے شائع ہوتا تھا۔ ان کے حوالے سے ایک دل پاسپ بات یہ ہے کہ جب وہ اپنی فلم سوہنی کمہارن بنائے لگے تو گجرات سے ایک لڑکی ممتاز شانتی کے نام سے ہیروئن کے طور پر منتخب کی جو بعد میں برصغیر کی صفِ اوّل کی اداکارہ بنی۔
ولی صاحب نے ۱۹۴۱ء میں اُس سے شادی کر لی۔ ۱۹۷۷ء میں ایک بھرپور زندگی گزارنے کے بعد لاہور میں انتقال کر گئے









