Light
Dark

واٹر کارپوریش، نارہندگان کے انفرادی بلنگ کرنے کی تحقیقات کا آغاز

Aslam Shah
واٹر کارپوریشن، 40 ارب روپے نارہندگان کے انفرادی بلنگ کرنے کی تحقیقات کا آغاز،
سوسائٹیز، بلڈرز اوردیگر ہزاروں بلک صارفین کا تصفیہ رشوت اور کمیشن لیکر کرنے کا انکشاف۔
ٹیکس ریونیو ڈپارٹمنٹ نے ایک بھی بلز دس ہزار سے بیس ہزار روپے تک رشوت و کمیشن وصول کیئے بغیر جاری نہیں کیا۔
کنکشن پالیسی 2016 کو نظرانداز کردیا گیا، موجودہ و سابق چیف ایگزیکٹیو سمیت کئی آفسران ملوث ہیں، ذرائع

کراچی(رپورٹ۔اسلم شاہ) واٹر کارپوریشن کی ریونیو ریسورسز ڈپارٹمنٹ میں سوسائٹیز، بلڈرز اور دیگر بلک صارفین کے انفرادی بلنگ کرنے پر نیا تنازعہ کھڑا ہوگیا ہے، 2016 ء پالیسی کے برخلاف بلنگ کیوں کی گئی کون کون ملوث ہیں اس سلسلے میں ایک بڑی کمیٹی بن گئی ہے اور تحقیقات تیزی سے جاری ہے۔ مبینہ طور پر چیف ایگزیکٹو آفیسر احمد علی صدیقی کی ہدایت پر ڈپٹی مینجنگ ڈائریکٹر عمران زیدی کے دستخط سے جاری ہونے والے خط بتاریخ 16 اکتوبر 2025ء کو کیا گیا ہے جس کے تحت عبدالرروف جمالی ڈائریکٹر اسسمنٹ اینڈ ایوی لوشن کمیٹی کے سربراہ ہوں گے، کمیٹی میں الہی بخش بھٹو، رحمت اللہ مگسی، وجاہت علی اور رضوان خان غوری شامل ہیں۔
کمیٹی ریونیو ڈپارٹمنٹ اور MCC کمیٹی کے مابین تنازعہ کو حل کرے گی۔ کیا 2016ء کی کنکشن کی پالیسی کو یکسر نظر انداز کرکے اربوں روپے نادہندگان بلک صارفین کی انفرادی حیثیت میں بلنگ کس کے حکنامہ کے تحت جاری کی گئی تھی جن میں 312 پرائیویٹ سوسائٹیز 2 ارب 25 کروڑ 37 لاکھ، 472 ہائی رائز بلڈنگز پر 77 کروڑ 97 لاکھ 1213 کیٹل فارمز پر 3 ارب 69 کروڑ 72 لاکھ،235 فارمز ہاوسز پر 50 کروڑ 18 لاکھ روپے کے واجبات موجود ہیں، جبکہ کراچی میں سوسائٹیز کی تعداد 1438، بلڈرز کی ہاوسنگ پروجیکٹ کی تعداد 7030 سے زائد ہوچکی ہے، کیٹیل فارمز کی تعداد روز بروز بڑھ رہی ہے، اسی طرح فارمز ہاوسز کی تعداد بھی بڑھ چکی ہے تاہم انفرادی بلنگ سے ادارہ کے واجبات کا تصفیہ کیئے بغیر انفرادی بلنگ کر دی گئی ہے، ریونیو افسران واٹر کارپوریشن ایکٹ 2023ء کے اجراء کے بعد 2016ء پالیسی ختم ہو چکی ہے یا افسران نے اپنے فائدے کے خاطر اربوں روپے واجبات کی موجودگی میں انفرادی بلنگ کی ہے، واضح رہے کہ واٹر کارپوریشن، ٹیکس ڈپارٹمنٹ کی بدانتظامی، نااہلی وانتظامی غفلت کے باعث ٹیکس آمدنی میں ناکامی، پانی سیوریج کے 124 ارب روپے نادہندگان پر چڑھ گئے ہیں۔ ان میں 30 فیصد یعنی 40 ارب روپے بروقت انتظامی فیصلے نہ ہونے کے باعث نادہندگان کی تعداد بڑھ گئی ہے، 26 ٹاون، اضلاع میں وفاقی، صوبائی،عسکری اداروں کے علاوہ 6 صعنتی زون سمیت 10ہزار بللک صارفین پر 68 ارب 74 کروڑ 95 لاکھ روپے اور ساڑھے 13 لاکھ شہری 54 ارب 49 کروڑ 88 لاکھ روپے کے نادہندگان ہوچکے ہیں اور 93 فیصد بلک میٹرز ناکارہ، نہ لگانے کی وجہ اوسط بلنگ،تجارتی اور صنعتی صارفین سے افسران کا مک مکا عروج پر ہے،سابق مینجنگ ڈائریکٹر مصباح الدین فرید کی ہدایت پر پالیسی 29 ستمبر 2016ء کو خط نمبر جاری کیا تھا جس کے تحت گھریلو، کمرشل،انڈسٹریل، سوسائٹیز، بلک بلڈنگز(عمارتوں)کے واٹر کنکشن کی پالیسی تشکیل دی گئی تھی،جو تاحال برقرار ہے،کسی سوسائٹیر، بلڈرز سے بلک میں ٹیکس وصول کیا جائے گا کسی کی حیثیت تبدیل نہ کی جائے گی، تاہم ٹیکس ریونیو کے افسران کا موقف تبدیل ہوگیا ہے۔ ایکٹ 2023ء کے تحت پالیسی ختم ہو چکی ہے اور ریکرریشن کے ذریعے کنکشن کی حیثیت تبدیل ہوسکتی ہے جس کے بعد بڑے پیمانے پر صارفین کی تعداد بڑھائے گی۔ ٹیکس ٹاون افسران کے ساتھ ریونیو افسران نے بڑی تعداد میں صارفین کی تعداد میں اضافہ کردیا گیا تاہم ان پلاٹوں پر بلک صارفین کے واجبات کا معاملہ سرد خانے میں ڈالا گیا ہے۔یہ بات ریکریشن کمیٹی نے اٹھایا تو ٹیکس ریونیو افسران میں بھونچال پیدا ہو گیا تھا۔ یہ ایک طرف ان کی قانونی یا غیر قانونی بلنگ کی کھوج لگائی گئی تو دوسری جانب ایک انفرادی بلنگ کے دوران صارفین دس سے 20 ہزار روپے رشوت و کمیشن ادا کررہا ہے۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ ایک بھی بلز فری یا سفارش پر نہیں جاری کیا گیا ہے بلکہ صرف رشوت و کمیشن کی بنیاد پر جاری کیا گیا۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ تنازعہ بلنگ کے دوران رشوت و کمیشن کا اصل جھگڑا ہے۔ سوسائٹیز، بلڈرز کے کنکشن (مافیا) کا ایک افسر بتایا جاتا ہے،ان میں بلک میٹر کے ایگزیکٹو انجینئر ندیم کرمانی، واٹر کارپوریشن آفیسر ایسوی ایشن کے نام نہاد صدر بھی اس میں ہیں جو بڑے عرصے تک چیئرمین بورڈ کے پرسنل اسٹاف آفیسر رہے تھے،اس دور میں بھی انہوں نے اپنا عہدہ نہیں چھوڑا تھا اب بھی وہ اسی عہدے پر برقرار ہیں اور ان کے بقول ان کا حق ہے کہ وہ تمام رشوت و کمیشن وصول کریں۔ ان کی ملازمت کی مدت صرف 11 ماہ رہ گئی ہے۔ وہ کسی بھی سطح پر ادارہ میں مالی فائدہ چھوڑنے پر تیار نہیں ہیں۔انہوں نے اپنا سرکاری بنگلہ 50 لاکھ روپے مالیت میں فروخت کرنے کی اطلاعات ہیں۔گاڑی کی الاٹمنٹ میں بھی مالی فائدہ لے چکے ہیں۔ دلچسپ امر یہ ہے کہ سپریم کورٹ کی ہدایت پر بلڈرز کو تمام یویلیٹی سروسز کی NOC پر بلڈرز کے تمام کیسوں میں بھی پالیسی کو نظرانداز کیا گیا تھا۔ اسی طرح بلڈرز اور سوسائٹیز بلک کنکشن کو انفرادی حیثیت میں تبدیل کرنے میں تمام حقائق جاننے کی ضرورت ہے۔کمیٹی کے جلد کسی نتیجے میں پہنچ جانے کا امکان ہے، ایک ٹیکس ریونیو افسر کا کہنا ہے کہ یہ مسئلہ جب بلک میٹر کے ایس سی طارق لطیف کی جانب سے مختلف خطوط لکھے گئے تو ہلچل پیدا ہوگئی اور ریونیو افسران نے ندیم کرمانی اور طارق لطیف کا تنازعہ قرار دیا گیا ہے، تاہم حقائق اس کے برعکس ہیں۔ پالیسی کے برخلاف سابق اور موجودہ چیف ایگزیکٹو آفیسر یا سابق مینجنگ ڈائریکٹرز کو استعمال کیا گیا ہے اور وہ کون کون افسران ہیں ان کے نام جلد منظرعام پر آ جائیں گے۔