پابندی کے خاتمے کا فیصلہ
وفاقی حکومت کی جانب سے تین سال بعد گھریلو صارفین کے گیس کنکشنز پر عائد پابندی ختم کرنے کا فیصلہ کر لیا گیا ہے، جس کے تحت آئندہ مالی سال سے نئے کنکشنز فراہم کرنے کا عمل شروع کیا جائے گا، اور یہ فیصلہ اس طویل انتظار کے بعد سامنے آیا ہے جو صارفین نے 2021 سے برداشت کیا۔
نئی پالیسی کی تفصیلات
ذرائع کے مطابق گیس کنکشنز فراہم کرنے کے لیے سفارشات تیار کر لی گئی ہیں، اور یہ فیصلہ کیا گیا ہے کہ نئے گھریلو کنکشنز ایل این جی ٹیرف کی بنیاد پر جاری کیے جائیں گے تاکہ اس عمل کو شفاف اور منظم بنایا جا سکے۔ تجویز دی گئی ہے کہ معمول کے ڈیمانڈ نوٹس کی فیس 18 ہزار روپے مقرر کی جائے، جبکہ ارجنٹ پالیسی کے تحت درخواست گزاروں سے 80 ہزار روپے فیس وصول کی جا سکے گی تاکہ تیز تر سہولت ان صارفین کو دی جا سکے جو فوری کنکشن حاصل کرنے کے خواہشمند ہوں۔
زیر التوا درخواستیں اور مالی بوجھ
وزارت پیٹرولیم کے مطابق اس وقت ملک بھر میں گھریلو کنکشنز کی تقریباً 35 لاکھ درخواستیں زیر التوا ہیں، جن میں سے صرف ڈھائی لاکھ صارفین نے تین ہزار سے دس ہزار روپے تک کی ڈیمانڈ نوٹس فیس جمع کروائی ہے، اور ان میں سے چار ہزار درخواست گزار ایسے بھی ہیں جنہوں نے فی کس 25 ہزار روپے کی ارجنٹ فیس بھی ادا کی ہے۔ پرانے درخواست گزاروں کو نئی پالیسی کے تحت اضافی ادائیگی کرنا ہوگی، جبکہ یہ اصول بھی طے کیا گیا ہے کہ ترجیح اسی صارف کو دی جائے گی جو سب سے پہلے مکمل رقم جمع کروائے گا۔
لاگت اور سہولتوں کی تقسیم
درآمدی ایل این جی کی بنیاد پر لگائے جانے والے گھریلو کنکشنز کی لاگت 5 سے 10 مرلے کے گھروں کے لیے تقریباً 40 ہزار روپے تک ہوگی، جس میں ڈیمانڈ نوٹس اور سیکیورٹی فیس شامل ہے، جبکہ 10 مرلے سے زائد گھروں کے صارفین کے لیے یہ رقم 43 ہزار روپے سے زیادہ مقرر کیے جانے کی تجویز دی گئی ہے۔ اس کے ساتھ ہی ایک سال میں ایک لاکھ کنکشنز دینے کی حد کو بھی ختم کر دیا گیا ہے، اور بتایا گیا ہے کہ ملک میں موجود ایل این جی کی مقدار 60 لاکھ کنکشنز فراہم کرنے کے لیے کافی ہے، تاہم کنکشنز کی فراہمی گیس کمپنیوں کے پاس دستیاب میٹرز کی تعداد سے مشروط ہوگی۔
آئندہ کا طریقہ کار
پیٹرولیم ڈویژن کے مطابق جب کابینہ کی جانب سے باضابطہ منظوری دی جائے گی تو گیس کمپنیاں صارفین کو ڈیمانڈ نوٹس اور سیکیورٹی فیس کے بارے میں سرکاری طور پر مطلع کریں گی، تاکہ اس عمل کو شفاف، منظم اور مرحلہ وار آگے بڑھایا جا سکے۔









