توشہ خانہ ٹو کیس میں دو اہم گواہان میں سابق پرسنل سیکریٹری انعام اللہ شاہ اور پرائیویٹ اپریزر صہیب عباسی شامل ہیں جو عدالت کے روبرو بیانات ریکارڈ کروا چکے ہیں۔
پرائیویٹ اپریزر صہیب عباسی نے سابق وزیر اعظم اور سابق خاتون اوّل کو سعودی ولی عہد محمد بن سلمان کی جانب سے تحفے میں ملنے والے بلغاری جیولری سیٹ کی قیمت کم لگانے کا اعتراف کر لیا جبکہ سابق پرسنل سیکریٹری انعام اللہ شاہ نے پرائیویٹ اپریزر پر دباؤ ڈال کر اس کی قدر کم کرنے کا انکشاف کیا۔
پرائیویٹ اپریزر نے بیان میں کہا کہ انعام اللہ شاہ نے دباؤ ڈال کر بلغاری جیولری سیٹ کی 50 لاکھ روپے میں ویلیو لگانے کو کہا، سابق پرسنل سیکریٹری نے دھمکی دی کہ ویلیو کم نہ کی تو سرکاری محکموں سے بلیک لسٹ کیا جائے گا۔
صہیب عباسی کے مطابق چیئرمین نیب کے سامنے معافی مانگ کر بیان ریکارڈ کروایا اور دستخط بھی کیے، مجسٹریٹ کے سامنے بیان میں اعتراف کیا کہ ڈر کے مارے جیولری سیٹ کی قدر کم کر کے رپورٹ دی۔
’23 مئی 2024 کو نیب تفتیشی افسر کے سامنے پیش کیا گیا جہاں معافی کی درخواست جمع کروائی۔ بلغاری جیولری سیٹ کی تشخیص 25 مئی 2022 کو کیبنٹ ڈویژن سیکشن آفیسر نے دی، میں نے اپنی رضامندی سے نیب کے انوسٹیگیشن افسر کو دستاویزات فراہم کیں۔‘
سابق پرسنل سیکریٹری نے اپنے بیان میں اعتراف کیا کہ میں نے صہیب عباسی سے بلغاری جیولری سیٹ کی قدر کم کرنے کو کہا تھا۔
انعام اللہ شاہ نے انکشاف کیا کہ پی ٹی آئی اور سرکاری نوکری دونوں سے تنخواہیں وصول کیں، میں 2019 سے 2021 تک ڈبل سیلری وصول کرتا رہا، بشریٰ بی بی کی ناراضی پر نوکری سے برطرف کیا گیا ڈبل سیلری کی شکایت نہیں تھی۔
انہوں نے بتایا کہ بشریٰ بی بی کو شک تھا کہ جہانگیر ترین کے ساتھ میرے بھائی کے تعلقات ہیں، میں وزیر اعظم ہاؤس کے کامپٹرولر کے طور پر بنی گالا ہاؤس میں تعینات تھا، بلغاری جیولری سیٹ سعودی ولی عہد محمد بن سلمان نے عمران خان اور بشریٰ بی بی کو گفٹ کیا تھا۔
قومی احتساب بیورو (نیب) کے مطابق عمران خان اور بشریٰ بی بی نے بلغاری جیولری سیٹ توشہ خانہ میں جمع نہیں کروایا جبکہ انہوں نے پرائیویٹ اپریزر سے کم قیمت لگا کر اسے اپنے پاس رکھا تھا۔
توشہ خانہ ٹو کیس کیا ہے؟
عمران خان اور بشریٰ بی بی کے خلاف توشہ خانہ ٹو کیس سعودی ولی عہد محمد بن سلمان کی جانب سے دیے گئے بلغاری جیولری سیٹ پر دائر کیا گیا تھا۔









