Light
Dark

طاقتور ٹھیکیدار کی ایماء پر معذور افسر ایس تھری کا نیا پروجیکٹ ڈائریکٹر تعینات

کراچی (رپورٹ: اسلم شاہ)حکومت سندھ نے ایک طاقتور ٹھیکیدار کی سفارش پر گریڈ 19 کے معذور افسر ساجد محسن قاضی کو پروجیکٹ ڈائریکٹر ایس تھری تعیناتی کی منظوری دے دی ہے، وہ گذشتہ ایک سال سے زائد عرصے سے فالج سے بیمار اور چلنے پھرنے میں شدید مشکلات کا شکار ہیں۔،ذرائع کا کہنا ہے کہ اب تک تین افسران انوار زئی،نور محمد اور حضور کلوڑ کو تعیناتی کی آفر دی گئی تھی جن میں تمام افسران نے منصوبہ پر کام کرنے سے صاف انکار کیا،جبکہ ایک سال سے معذور افسر نے حامی بھر لی ہے، مبینہ طور پر ایس تھری کے دس میں دو منصوبے تعطل کا شکار ہیں، منصوبے مکمل نہ ہونے کی بڑی وجہ بڑے پیمانے پر آلات کا و مشینری چوری ہوچکی ہے۔ ہیوی موٹرز سمیت دیگر الات نصب نہ ہوسکے، بجلی کے کنکشن کا کام بھی ادھورا ہے، ہارون آباد شیرشاہ میں کنڈیو لائن تاحال جوڑی نہیں جاسکی اور ماری پور میں ایک ٹریٹمنٹ پلانٹ 20 ملین گیلن پانی صاف کررہی ہے۔ کنڈیو لائن میں چوک ہونے کی وجہ سے گندھا پانی نہیں آرہا ہے جس کی وجہ سے ٹریٹمنٹ پلانٹ کی صلاحیت دن بدن بدتر ہورہی ہے۔ کراچی کے سیوریج کے میگا منصوبے ایس تھری کی ناکامیوں کی طویل داستان میں ایک اور نیا موڑ آگیا ہے، مبینہ طور پر وزیر بلدیات ناصر حسین شاہ نے واٹر کارپوریشن میں دو ماہ قبل پہلا حکم صادر کیا ہے اور منصوبے کے طاقتور ٹھیکیدار کمپنی پاک اوسس کے کہنے پر منصوبے کے نویں پروجیکٹ ڈائریکٹر نظام الدین شیخ کو بھی عہدے سے برطرف کر دیا ہے۔ یہ وہ منصوبہ ہے جو آٹھ سال سے تاخیر، کرپشن اور بدانتظامی کا شکار ہے اور اب تک نو پروجیکٹ ڈائریکٹرز تبدیل کیے جا چکے ہیں مگر منصوبہ تاحال مکمل نہ ہوسکا، دسواں پروجیکٹ ڈائریکٹرز لانے کی تیاری ہے،جو منصوبے کے سابق پروجیکٹ ڈائریکٹرز میں شامل ہیں۔مصباح الدین فرید، عمران آصف، امتیاز مگسی، نور محمد، افضل زیدی، حنیف بلوچ، اویس ملک، ظہیر شیخ اور حالیہ برطرف ہونے والے نظام الدین شیخ کے نام شامل ہیں۔ذرائع کے مطابق ہر نئے پروجیکٹ ڈائریکٹر کو ٹھیکیدار کی مزاحمت، سیاسی دباؤ اور مالیاتی بے ضابطگیوں کا سامنا رہا ہے۔ ہر بار معاملات دبا دیئے گئے، رپورٹس فائلوں میں دب گئیں اور منصوبہ ایک قدم بھی آگے نہ بڑھ سکا۔ ٹھیکیدار پاک اوسیس کا راج اور کنسلٹنٹس کی خاموشی،کروڑوں کی ادائیگیاں بغیر کام کے کی جارہی ہیں۔باوثوق ذرائع نے انکشاف کیا ہے کہ منصوبے کے کنسلٹنٹس ٹیکنو کا کردار بھی انتہائی مشکوک اور غفلت پر مبنی رہا ہے۔ ذرائع کے مطابق سی آر ای ارشد فاروقی اور ڈاکٹر بشیر لاکھانی نے ٹھیکیدار کی سنگین تاخیر اور ناقص کارکردگی پر صرف چند رسمی نوٹسز جاری کیے، مگر کسی عملی اقدام یا معاہدہ منسوخی کی ہمت نہ کی۔ان کی خاموشی نے ٹھیکیدار کو کھلی چھوٹ دے دی، جس کے نتیجے میں کروڑوں روپے کے واجبات باقاعدگی سے ادا ہوتے رہے ان کاموں کے بدلے جو سرے سے کیے ہی نہیں گئے۔ذرائع کا کہنا ہے کہ صرف چند ملین روپے کے ذاتی فائدے کے لیے کنسلٹنٹ کمپنی“ٹیکنو نے عوامی خزانے کو بے دردی سے ضائع کیا اور منصوبے کو جان بوجھ کر التواء کا شکار رکھا،یہ الزامات کنسلٹنٹس پر ایک بڑا دھبہ ہے جو سرکاری فنڈز کے محافظ بننے کے بجائے ٹھیکیدار کے سہولت کار بن گئے۔ کراچی کے سیوریج منصوبے کی 8 سالہ تاخیر اور 13 ارب روپے کا سوال ہے۔ایس تھری منصوبے میں 10 ٹھیکیدار شامل تھے، جن میں سے 8 نے لیاری ندی تک جزوی کام مکمل کرلیا، ہینڈاور بھی کردیا گیا ہے اس کے تمام واجبات کی بھی ادائیگی کردی گئی۔
جبکہ ہارون آباد شیرشاہ اور ماری پور کے ٹریٹمنٹ پلانٹس تاحال نامکمل ہیں۔ منصوبے پر اب تک 13 ارب روپے خرچ ہوچکے ہیں مگر شہر اب بھی گندے پانی اور تعفن زدہ نالوں میں ڈوبا ہوا ہے۔ واٹر کارپوریشن کے اندرونی ذرائع کے مطابق مشینری مرحلہ وار فروخت، بڑے موٹرز کی چوری، اور فنڈز کی خرد برد معمول بن چکی ہے۔ کراچی کے 42 کلومیٹر ساحلی پٹی کو سرکاری رپورٹ میں شدید آلودہ قرار دیا جا چکا ہے۔
سابق چیف جسٹس کے افتتاح کے باوجود ماری پور پلانٹ 7 سال بعد بھی ادھورا رہ گیا ہے۔سابق چیف جسٹس ثاقب نثار نے 22 جولائی 2018ء کو 77 ملین گیلن یومیہ صلاحیت کے پلانٹ کا افتتاح کیا تھا۔جو اب دو کروڑ گیلن سیوریج کا پانی صاف کررہا ہے، ماہرین کا کہنا ہے کہ منصوبہ ایس تھری وفاقی و صوبائی حکومتوں کی عدم دلچسپی، نااہلی اور بدانتظامی کے باعث منصوبہ سات سال بعد بھی مکمل نہیں ہو سکا۔
ڈالر کی قدر میں اضافہ اور فنڈز کی تاخیر کے باعث منصوبے کی لاگت میں 100 فیصد اضافہ متوقع ہے، اس کا فائد ہ ٹھیکیدار حاصل کرنے میں کامیاب ہے اور وہ اس منصوبے کی لاگت بڑھانے کی کوشش میں پروجیکٹ ڈائریکٹر کو عہدے سے فارغ کرایا تھا،پروجیکٹ ڈائریکٹر نظام الدین شیخ کا انکشاف:“ماحولیاتی بجٹ ہی مختص نہیں کیا گیا“ایس تھری منصوبے میں مکینیکل، الیکٹریکل اور ماحولیاتی شعبوں کے لیے کوئی واضح بجٹ نہیں رکھا گیا،دیکھ بھال، چوکیداری یا حفاظتی نظام سرے سے موجود نہیں، اس لیے مشینری چوری اور نقصان روز کا معمول ہے۔ اب نیا کھیل: کورنگی منصوبہ پرائیویٹ پارٹنرشپ کے سپرد منصوبے کا چوتھا یونٹ کورنگی اب پبلک پرائیویٹ پارٹنرشپ یونٹ کے تحت تعمیر کیا جانے کا امکان ہے۔ ذرائع کے مطابق ٹریٹمنٹ پلانٹ کو دو حصوں میں تقسیم کیا گیا ہے۔ پلانٹ کی تعمیراتی لاگت 34 ارب روپے جبکہ ملیر ندی میں کنڈیوٹ لائن کی تعمیر کا تخمینہ 25 ارب روپے لگایا گیا ہے،ملیر ندی پر پانچ ٹریک سیور کنڈیوٹ کی کل لمبائی 22.74 کلومیٹر بتائی گئی ہے۔ چیف ایگزیکٹو آفیسر احمد علی صدیقی کا کہنا ہے کہ نظام الدین شیخ اب تک ہمارے پروجیکٹ ڈائریکٹر ہیں وہ نئے پروجیکٹ ڈائریکٹر کے آنے تک کام کرسکتے ہیں جبکہ نظام الدین شیخ کا کہنا ہے کہ ادارہ نے مجھے عہدے سے ہٹانے کا خط سندھ حکومت کو لکھا تھا میں ان حالات میں اپنے فرائض ادا نہیں کرسکتا ہوں، تاہم کراچی کے شہریوں کے علاوہ واٹر کارپوریشن کا سوال وہیں برقرار ہے، 8 سال، 13 ارب روپے، 9 ڈائریکٹرز، 2 کنسلٹنٹس ہونے کے باوجود کراچی اب بھی گندے پانی میں غرق ہو رہا ہے۔