Light
Dark

شہروں کا عالمی دن

پاکستان سمیت دنیا بھر میں آج شہروں کا عالمی دن منایا جا رہا ہے ہر سال 31 اکتوبر ورلڈ سیٹیز کے طور پر منایا جاتا ہے۔
یہ دن اقوامِ متحدہ کی جنرل اسمبلی نے مقرر کیا اور پہلا عالمی شہروں کا دن 2014 میں منایا گیا۔
جس کا مقصد شہری علاقوں کو درپیش مسائل کے حل، ترقی، عالمی تعاون کے فروغ، شہری منصوبہ بندی میں جدت اور ٹیکنالوجی کا استعمال بڑھانا، ماحولیاتی تحفظ پر زور دینا، شہری و دیہی علاقوں کے درمیان توازن پیدا کرنا، سب کے لیے بہتر معیارِ زندگی یقینی بنانا اور مواقعوں کو اجاگر کرنا ہے
رواں سال اس کی تھیم عوام کی سہولت پر مبننی جدید شہری نظام “ہے”
یہ دن دنیا بھر میں شہروں کوبسانے میں عالمی دلچسپی کو فروغ دینے، شہروں کو درپیش چیلنجز سے نمٹنے کیلئے بین الاقوامی یکجہتی کو فروغ
دینے اور دنیا بھر میں پائیدار شہری ترقی میں کردار ادا کرنے کا ایک موقع فراہم کرتا ہے۔
اقوام متحدہ کے اعدادو شمار کے مطابق اس وقت تقریبا 56 ہزار آبادی شہروں میں رہتی ہے 2050 تک یہ تناسب 68 فیصد ہونے کی توقع ہے۔

شہری زندگی ترقی، روزگار اور جدید سہولتوں کا مرکز ہے، مگر اس کے ساتھ مسائل بھی ہیں جیسے کہ ٹریفک ، آلودگی ،رہائش کی کمی ،
بنیادی سہولیات پر دبائو اور ماحولیاتی تبدیلی کے اثرات ۔

پاکستان میں بھی یہ دن مختلف اداروں اور بلدیاتی حکومتوں کی جانب سے منایا جاتا ہے۔
کراچی، لاہور، اسلام آباد، اور دیگر بڑے شہروں میں سیمینارز، آگاہی مہمات، اور اسکولوں میں تقریبات منعقد کی جاتی ہیں تاکہ شہریوں کو صاف، سرسبز اور پائیدار شہروں کی اہمیت سمجھائی جا سکے۔پاکستان کے شہر بہت خوبصورت ہیں۔ ہر شہر کی اپنی خاص بات اور خصوصیات ہیں اس ہی طرح ہر شہر کے اپنے مسائل بھی ہیں جن کو حل کرنے کے لیے اقدامات کرنا ضروری ہیں۔آج کا دن ہمیں یاد دلاتا ہے کہ شہر صرف عمارتوں اور سڑکوں کا مجموعہ نہیں بلکہ انسانوں کی زندگیوں کا مرکز ہیں۔
اگر ہم آج پائیدار منصوبہ بندی، ماحول دوست طرزِ زندگی، اور اجتماعی ذمہ داری کو اپنائیں، تو ہم آنے والی نسلوں کے لیے بہتر، محفوظ اور خوبصورت شہر تخلیق کر سکتے ہیں۔