Light
Dark

سرمایہ کاری کے تحفظ اور کاروباری ماحول کے فروغ کے لیے اصلاحات

وفاقی حکومت نے ملک میں کاروباری سرگرمیوں اور براہ راست غیر ملکی سرمایہ کاری بڑھانے کے لیے بڑے اقدامات کا اعلان کر دیا ہے۔ وزارت صنعت و پیداوار نے تجاویز دی ہیں کہ صنعتوں اور نجی شعبے کو غیر ضروری ہراسانی سے بچایا جائے اور سرمایہ کاری کے عمل کو آسان بنایا جائے۔

سیلز ٹیکس کے تمام سرکاری عمل کو مکمل طور پر ڈیجیٹل کیا جائے گا تاکہ کاروباری افراد کے لیے عمل آسان اور شفاف بنایا جا سکے۔ بیرون ملک سے قانونی چینلز کے ذریعے آنے والی سرمایہ کاری کو مزید چیکنگ سے استثنیٰ دینے، اور ایف بی آر، نیب اور ایف آئی اے کی غیر ضروری مداخلت روکنے کی سفارش بھی کی گئی ہے۔

حکام نے یہ تجویز بھی دی ہے کہ براہ راست غیر ملکی سرمایہ کاری کے تحفظ کا اختیار وزیراعظم آفس کو دیا جائے، تاکہ سرمایہ کاروں کو گرفتاری یا رقم کی ضبطگی کے خدشات سے تحفظ مل سکے۔ نائیکوپ ہولڈرز کو بھی قانونی تحفظ دینے کی تجویز زیر غور ہے۔

ریگولیٹری اصلاحات میں ٹیکس اپیل دائر کرنے پر ریکوری کو خودکار طور پر معطل کرنے، ودہولڈنگ ٹیکس آڈٹس میں رسک بیسڈ نظام متعارف کروانے اور معمولی ٹیکس غلطیوں کو فوجداری جرائم کی فہرست سے نکالنے کی سفارش بھی شامل ہے۔

سرکاری افسران اور ریگولیٹرز کو نیک نیتی میں کیے گئے فیصلوں پر قانونی تحفظ فراہم کرنے کی تجویز دی گئی ہے، جبکہ غیر قانونی مداخلت پر سزا کے طور پر 30 روز قید یا 10 لاکھ روپے جرمانے کا اختیار تجویز کیا گیا ہے۔

ان اصلاحات کا مقصد کاروباری اعتماد بحال کرنا، سرمایہ کاری کو فروغ دینا اور معاشی ترقی کو تیز کرنا ہے۔