نیویارک ٹائمز نے انکشاف کیا ہے کہ نیتن یاہو غزہ امن معاہدے سے پیچھے ہٹ سکتے ہیں۔
اسرائیلی وزیرِ اعظم نیتن یاہو ممکنہ طور پر امریکی ثالثی میں طے پانے والے معاہدے کو توڑ سکتے ہیں، امریکی اخبار ’نیو یارک ٹائمز‘ کے مطابق نیتن یاہو وعدہ خلافی کرتے ہوئے غزہ امن معاہدے سے پیچھے ہٹ سکتے ہیں، جس پر ٹرمپ انتظامیہ کے خدشات بڑھنے لگے ہیں۔
رپورٹ کے مطابق ٹرمپ انتظامیہ کی حکمتِ عملی یہ ہے کہ اسرائیلی وزیر اعظم نیتن یاہو کو حماس کے خلاف دوبارہ فوجی کارروائی کرنے سے ہر صورت روکا جائے۔ وائٹ ہاؤس انتظامیہ کی جانب سے غزہ امن معاہدے کو قائم رکھنے کی بھرپور کوششیں جاری رہیں۔
وائٹ ہاؤس حکام کا کہنا ہے کہ نائب صدر جے ڈی وینس کا اسرائیل کا دورہ نیتن یاہو پر جنگ بندی کی پاسداری کے لیے دباؤ ڈالنے کے مقصد سے کیا جا رہا ہے، جب کہ اس دورے کو ایک علامتی اقدام کے طور پر بھی دیکھا جا رہا ہے، جو اس بات کا اشارہ ہے کہ ٹرمپ انتظامیہ اس معاہدے کو برقرار رکھنے کے لیے پختہ عزم رکھتی ہے۔
صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے داماد جیئرڈ کشنر اور امریکی مشرق وسطیٰ کے ایلچی اسٹیو وٹکوف پہلے ہی پیر کے روز اسرائیل پہنچ چکے ہیں، جہاں وہ نیتن یاہو اور دیگر اسرائیلی حکام کے ساتھ جنگ بندی معاہدے پر عمل درآمد کے حوالے سے بات چیت کر رہے ہیں۔
ٹرمپ اور پیوٹن کی ہنگری میں طے ملاقات منسوخ
ایک اعلیٰ امریکی اہلکار نے امریکی اخبار کو بتایا کہ کشنر اور وٹکوف دونوں کا ماننا ہے کہ جنگ بندی کا معاہدہ ’’ٹوٹنے کے خطرے سے دوچار ہے۔‘‘ ذرائع کے مطابق، ان دونوں امریکی ایلچیوں کی حکمت عملی یہ ہے کہ نیتن یاہو کو حماس کے خلاف مکمل فوجی حملے کی دوبارہ شروعات سے روکا جائے۔
نیویارک ٹائمز کے مطابق، اسرائیل میں کشنر اور وٹکوف کی گفتگو کا محور وہ ’’نازک نکات‘‘ ہیں جو ابتدائی معاہدے میں واضح نہیں کیے گئے تھے، جن میں استحکام قائم کرنے والی فورس کی تشکیل اور حماس کا غیر مسلح کیا جانا شامل ہے۔
یاد رہے کہ اتوار کے روز اسرائیل نے غزہ کی پٹی پر مہلک فضائی حملوں کا سلسلہ شروع کیا، جن میں کم از کم 44 فلسطینی جاں بحق ہوئے۔ اسرائیل نے دعویٰ کیا کہ حماس نے جنوبی شہر رفح میں اس کی فوج پر حملہ کیا تھا، تاہم حماس نے اس الزام کی تردید کی اور کہا کہ وہ جنگ بندی معاہدے پر عمل پیرا ہیں۔









