Light
Dark

مودی حکومت کی سرپرستی میں مسلمانوں کے گھروں پر بلڈوزر چلانے کا سلسلہ جاری

بھارت میں مسلمانوں پر ظلم و ستم ہونا کوئی نئی بات نہیں، تاہم ان دنوں مودی حکومت کی سرپرستی میں مسلمانوں کے گھروں پر بلڈوزر چلانے کا سلسلہ جاری ہے۔
تفصیلات کے مطابق رواں سال ستمبر میں بھی اترپردیش میں عید میلاد النبی کے مو قع پر کے پوسٹرز لگائے گئے تو یوگی سرکار کی ہدایت پر بلڈوزر مسلمانوں کے گھر گرانے لگے۔ سیکڑوں مسلمانوں پر مذہبی منافرت پھیلانے کے الزام عائد کئے گئے۔
مسلمانوں کی عمارتیں گرانے کا عمل بھارتی سپریم کورٹ نے غیر قانونی قرار دیا لیکن انتہاپسند حکومت باز نہ آئی۔
اترپردیش میں 2017 سے جاری یوگی آدتیہ ناتھ کی بلڈوزر پالیسی کے تحت ریاست میں ہزاروں مسلمانوں کے گھروں کو بلڈوز کیا جاچکا ہے۔ انہیں بغیر کسی قانونی جواز کے بے دخل کیا گیا، جس سے لاکھوں مسلمان خواتین اور بچے متاثر ہوئے۔
بھارت میں مسلمانوں کے تعلیمی، معاشی اور مذہبی حقوق مودی کے اقتدار میں آنے کے بعد مسلسل خطرے میں ہیں۔ بھارت کے آئین میں درج سیکولر ازم اور برابری کے اصول مودی راج میں عملاً ختم ہو چکے ہیں۔
برطانوی وزیراعظم کا مساجد اور مسلمانوں کے تحفظ سے متعلق اہم اعلان
ہندو انتہا پسند تنظیم آر ایس ایس کے نظریات اب ریاستی پالیسیوں کا حصہ بن چکے ہیں۔
عالمی مبصرین کا کہنا ہے کہ بھارت میں مسلمانوں کے خلاف یہ ریاستی سرپرستی میں چلنے والی مہم انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزی ہے، جس پر عالمی برادری کی خاموشی سوالیہ نشان بن چکی ہے۔