تحریر – سنبل ناز
مریم نواز کا حالیہ سیاسی بیان کافی وائرل ہوا ہے جس میں وہ پنجابیت کی بات کرتی نظر آتی ہیں۔ حقیقت یہ ہے کہ پنجاب کی سیاست کا محور شروع سے قوم پرستی ہی رہا ہے اور اس میں پنجابی عوام کا کوئی قصور نہیں
البتہ پنجاب طویل عرصہ سے ”اسٹبلشمنٹ“ کے کھیل کا مرکز رہا ہے۔ اس پس منظر میں مریم کے جو تصویری مناظِر سامنے آئے ہیں، وہ بلاشبہ ایک شُوٹنگ جیسا تاثر دیتے ہیں: چھوٹی باتوں کو بڑی نمائش بنا کر پیش کرنا، پنجاب کے انتظامی ڈھانچے کی پہچان رہی ہے۔ اس کا مطلب یہ ہرگز نہیں کہ حقیقت میں حالات بہتر ہو گئے ہیں؛ صرف یہ ہے کہ ایک منظم منظر کشی کے ذریعے کم کام کو زیادہ دکھا دیا جاتا ہے۔
جب سندھ کے انتظامی ڈھانچے سے موازنہ کیا جائے تو مریم کا سیاسی رویّہ اس کا اعتراف نہیں بلکہ عوام کو بھٹکانے کی طرف اشارہ کرتا ہے۔ پنجاب میں تعلیمی معیار کی گھاٹی، اخلاقی گراوٹ، بڑھتے ہوئے غیرت کے نام پر قتل، عصمت ریزی اور دیگر سنگین جرائم ہر روز عام منظر بن چکے ہیں۔ سندھ شاید پوری طرح پیچھے نہیں مگر اس کی کامیابیاں بھی میڈیا پر وہ پذیرائی نہیں پائیں جو ملنی چاہیے تھی — اسکولوں کی عمارتیں بہتر کرنا یا معیاری تعلیم کو فروغ دینا بہت بڑا کارنامہ ہے، مگر اسے نمایاں نہیں دکھایا جاتا۔
میں کسی جماعت کا کارکن یا ووٹر نہیں؛ لیکن ایک عام ناظر کی حیثیت سے یہ جانتی ہوں کہ سندھ میں تعلیمی اور طبی شعبوں میں جو اقدامات ہوئے ہیں، ان کے اثرات آئندہ تین سال میں واضح ہو کر سامنے آئیں گے۔ مجرموں کو نمایش کے طور پر کتا مار مہم یا تصویری منظرنامے عارضی تاثر تو دے سکتے ہیں مگر جرائم کی جڑیں اسی طرح ختم نہیں ہوتیں۔ تاریخ آپ کو خصوصی مقام اس لیے نہیں دے گی کہ آپ نے کچھ تصویری مناظر بنائے — تاریخ کے اپنے اصول اور معیار ہوتے ہیں۔
عوامی جماعت (پیپلز پارٹی) کو مشورہ یہی ہوگا کہ : کام کریں اور اسے حقیقتاً بہتر طریقے سے لوگوں تک پہنچائیں۔ سندھ کے دیہی علاقوں اور ضلعی شہروں میں عملی اقدامات کریں؛ حیدرآباد کو ”دوسرا کراچی“ بنانے جیسی عملی حکمتِ عملی اگر کامیاب ہوئی تو یہ اُن کا سب سے بڑا کارنامہ ہوگا — اور پھر اسے صحیح انداز میں نمائش کرنا بھی سیکھیں۔ میں نے جو کام آپ لوگوں کے لیے دیکھا ہے وہ میڈیا پر مناسب انداز میں پیش نہیں ہوا —
میرا جسم میری مرضی سے ذیادہ میرا صوبہ میرا پانی کا نعرہ متنازعہ ہوگیا ہے مریم کا بیان انتہائی بچگانہ تھا
جس کی توقع ایک وزیر اعلی سے نہیں کی جاسکتی نواز لیگ کو سیاست میں بیانیے کیسے دیے جاتے ہیں وہ سندھ کے لیڈران سے سیکھنا پڑے گا ۔۔ سندھ پنجاب نہیں جہاں یوتھیا آپ کے کردار کی دھجیاں بکھیریں اور آپ ان سے لڑتے لڑتے اس طرح کے بکواس بیان دینے کی عادی ہوگئی ہیں یہ وہی سندھ ہے جہاں لاکھ اختلاف اور قتل غارت گری کے باوجود الطاف بے نظیر اور دیگر رہنماؤں نے بیانات کی وہ تاریخ رقم نہیں کی جو پنجاب کے سربراہان اپنی تقاریر میں کرتے ہیں ۔
میں نے ہمیشہ پنجاب اور سندھ کو ایک تہذیب کے وارث کے طور پر دیکھا ہے مریم کا یہ بیان ان کی شخصیت کی سظحیت اور سیاسی نا پختگی اور منافقت کی سیاست سے بھرا ہے اب یہ بیان ان کا خود کا ہے کسی دباؤ یا سیاست کی نئی کڑی کا حصہ ہے جیسا کہ پنجاب کا وطیرہ رہا ہے ہمیشہ سیاسی کھیل کا حصہ
اب پنجابی 88 کے بعد دوبارہ استعمال ہونے جارہے ہیں اگر عقل نہیں تو بصد شوق بنیں نقصان صرف پنجاب کا ہوگا ۔









