Light
Dark

ماحولیاتی کارکن گریٹا تھنبرگ کا انکشاف

ماحولیاتی کارکن گریٹا تھنبرگ نے سویڈش حکام کو بتایا ہے کہ اسرائیلی حراست میں ان کے ساتھ غیر انسانی سلوک کیا جا رہا ہے۔
یہ انکشاف اُس ای میل میں ہوا جو برطانوی اخبار دی گارڈین کے نمائندے کے مطابق سویڈن کی وزارت خارجہ نے گریٹا تھنبرگ سے منسلک قریبی لوگوں کو ارسال کی۔
دی گارڈین کے نمائندے نے ای میل کا حوالہ دیتے ہوئے بتایا کہ اسرائیلی حراست میں موجود ایک قیدی نے بتایا کہ اسرائیلی فورسز نے گریٹا تھنبرگ کی تصاویر لیں جہاں انہیں مبینہ طور پر جھنڈے پکڑنے پر مجبور کیا گیا۔
سویڈش وزارت خارجہ کی جانب سے بھیجی گئی ای میل میں ایک عہدیدار نے کہا کہ گریٹا تھنبرگ نے دعویٰ کیا کہ انہیں کیڑوں سے متاثرہ سیل میں رکھا گیا جہاں کھانے اور پانی کی کمی تھی۔
ای میل میں کہا گیا کہ سفارتخانہ ماحولیاتی کارکن سے مل سکا، انہوں نے پانی کی کمی کی اطلاع دی، انہیں پانی اور کھانا دونوں ناکافی مقدار میں دیے گئے، ان کے بشتر کیڑے پائے گئے، انہوں نے غیر انسانی سلوک کی بات کی۔
سویڈش وزارت کے عہدیدار نے مزید کہا کہ ایک اور قیدی نے ایک اور سفارتخانے کو بتایا کہ انہوں نے گریٹا تھنبرگ کو جھنڈے پکڑتے ہوئے تصاویر لیتے دیکھا۔
اس الزام کی تصدیق فلوٹیلا کے کم از کم دو دیگر اراکین نے کی جو اسرائیلی فورسز کے ہاتھوں حراست میں لیے گئے اور ہفتہ کو رہا ہوئے۔
ترک کارکن ارسن چیلیک نے انادولو نیوز ایجنسی کو بتایا کہ انہوں نے ہماری آنکھوں کے سامنے گریٹا کو بالوں سے گھسیٹا، اسے مارا اور اسے اسرائیلی جھنڈا چومنے پر مجبور کیا، انہوں نے اس کے ساتھ ہر ممکن زیادتی کی۔
لورینزو ڈی اگوسٹینو ایک صحافی اور فلوٹیلا کے ایک اور شریک کارکن ہیں۔ انہوں نے استنبول واپسی پر کہا کہ گریٹا کو اسرائیلی جھنڈے میں لپیٹ کر ایک ٹرافی کی طرح پریڈ کیا گیا۔
این جی او عدالہ کے وکلاء کے مطابق عملے کے اراکین کے حقوق کو منظم طور پر پامال کیا گیا، کارکنوں کو پانی، صفائی، دوائی اور ان کے قانونی نمائندوں تک فوری رسائی سے محروم رکھا گیا جو ان کے بنیادی حقوق کی واضح خلاف ورزی ہے۔