حیران کن بات ہے کہ جب بھی سندھ کی بات کی جاتی ہے تو سندھ صرف کراچی مان لیا جاتا ہے اور باقی سندھ بارے کوئی ایک لفظ منہ سے نہیں نکالتا حالانکہ کراچی پورے سندھ کا ایک تہائی حصے سے بھی کم حصہ ہے۔
پنجاب کے زیادہ تر لوگوں نے تو شاید پورا سندھ دیکھا نہ ہو مگر سندھ کے رہنے والے تو پورے سندھ کو جانتے ہیں انہوں نے بھی کبھی سندھ کی بات کرتے ہوئے اندرون سندھ کو اپنی بحث میں شامل نہیں ہونے دیا اور سندھ کی بات صرف کراچی تک محدود رہتی ہے اسی لیے موازنہ بھی پنجاب اور کراچی کا ہوتا ہے باقی سندھ اس بحث میں شامل ہی نہیں ہوتا اور سندھ کے باقی بڑے شہروں جیسے حیدراباد،سکھر،نوابشاہ،لاڑکانہ،جیکب آباد،شکارپور،میرپور خاص،خیرپور،سانگھڑ،دادو، ٹھٹھہ،عمرکوٹ،تھرپارکر، لاڑکانہ بدین کو تو ہر قسم کی بحث سے ہی نکال دیا جاتا ہے۔
قارئین سندھ کوئی مریخ پر نہیں جہاں کوئی جا کے خود اسکی حالت ملاحظہ نہیں کر سکتا جس طرح پنجاب کے چھوٹے سے چھوٹے شہروں بارے تمام تفصیلات کھول کے سامنے رکھی جاتی ہیں۔۔
پنجاب کے چھوٹے شہروں کے مطالبے کیا نظر آتے ہیں؟ باقی پنجاب کو لاہور جیسا ٹرانسپورٹ سسٹم دیا جائے
باقی پنجاب میں لاہور جیسی یونیورسٹیز بنائی جائیں
باقی پنجاب میں لاہور جیسے ہسپتال بنائے جائیں
باقی پنجاب کے ہر ضلعے میں دل اور کینسر کے ہسپتال بنائے جائیں وغیرہ وغیرہ
مگر اندرون سندھ کے کیا مطالبے ہیں؟
ٹوٹی پھوٹی سڑکیں مرمت کروائی جائیں
سکولوں سے وڈیروں کا قبضہ ختم کروایا جائے ان کی بھینسیں سکول سے باہر منتقل کی جائیں
بنیادی ہیلتھ یونٹ میں ڈاکٹر تعینات کیا جائے اور جو موجود ہیں انہیں پابند کیا جائے کہ وہ کام پر آئیں
امتحانات میں بوٹی مافیا کو کنٹرول کیا جائے
ڈاکوؤں کی سرکوبی کی جائے
وغیرہ وغیرہ
کیا آپ کو ان مطالبات کے اندر ہی ساری کہانی نظر نہیں آتی؟
اب اس بات کو ایک طرف رکھیں اور جس شہر کو پورا سندھ قرار دے کے اسکا تقابل پنجاب سے کیا جاتا ہے اسکی حالت دیکھنا تو کوئی مشکل کام نہیں کیا کراچی کا کوئی شرم حیا والا شہری یہ کہہ سکتا ہے کہ پورا کراچی گھریلو استعمال کے لیے پانی ٹینکر سے خرید کے استعمال نہیں کر رہا؟
ٹینکر والے پانی کہاں سے لیتے ہیں؟
مطلب پانی تو موجود ہے مگر سندھ حکومت جسے اب مسلسل 17 سال حکومت کرتے گزر گئے ہیں وہ اس پانی کو شہریوں تک پہنچانے کا انتظام نہیں کر پائی۔
کوئی بھی جا کے دیکھ سکتا ہے کہ پورے شہر میں چوک بازار گلیوں میں کوڑے کے ڈھیر لگے ہوئے ہیں یا نہیں اور کوئی انہیں اٹھانے والا نہیں۔
کوئی کراچی والا یہ کہہ سکتا ہے کہ کراچی کی چند مرکزی شاہراہوں کے علاؤہ پورے کراچی کی سڑکیں درست حالت میں ہیں،پانی کے نکاس کا درست انتظام ہے؟
اٹھارویں آئینی ترمیم میں وسائل کی تقسیم کے بعد کوئی صوبہ کسی دوسرے صوبے سے امیر یا غریب نہیں رہ گیا سب کو ایک جیسے فنڈز ملتے ہیں بلکہ پنجاب اپنے حصے سے چھ فیصد کم پیسے لے کر اسے باقی صوبوں کو سبسڈی دینے کا ریکارڈ بھی رکھتا ہے تو یہ بتایا جائے کہ اگر پنجاب اسی پیسے سے اپنے صوبے کی حالت سدھار سکتا ہے تو باقی صوبے ایسا کیوں نہیں کر سکتے؟
کراچی کا موازنہ لاہور سے کرنے والے یہ موازنہ کرنے کا سوچ بھی کیسے سکتے ہیں؟
کیا انہوں نے سب کو اندھے بہرے سمجھ رکھا ہے جنہیں نظر کچھ نہیں آتا ،سنائی کچھ نہیں دیتا؟
ہم کراچی سے ہرگز کوئی پرخاش نہیں رکھتے کراچی پاکستان کا سب سے بڑا شہر اور معاشی ہب ہے اپنی جغرافیائی حیثیت کی وجہ سے اس شہر کو کوئی نظرانداز کر ہی نہیں سکتا مگر کیا کراچی کو ایسے ہی رہنا چاھیے جیسے اس وقت ہے اور ہمیں یہی لولی پوپ چوستے رہنا چاہیے کہ کراچی کو پیرس بنا دیں گے اور الّا ماشااللہ سندھ کے وزیروں کی ایسی بک بک پر سر دھننا چاہیے کہ پنجاب کو بھی سندھ جیسی ترقی دیں گے؟









