تفصیلات کے مطابق قیوم آباد میں کم عمر بچیوں سے زیادتی کیس کے حوالے سے ایس ایس پی ساؤتھ نے بتایا کہ ملزم کے موبائل فون سے 100سے زائد ویڈیوزبرآمد ہوئیں ، ملزم 2016 سے کم عمربچیوں کو پیسے دے کر زیادتی کا نشانہ بنا رہا تھا۔
ایس ایس پی کا کہنا تھا کہ ملزم غریب گھرانوں کی بچیوں خصوصاً ماسیوں کی بچیوں کو نشانہ بناتا تھا، ایک بچی ملزم کی یوایس بی اٹھا کر لے گئی اور موبائل شاپ پر دی، دکاندار نے یو ایس بی کمپیوٹر میں لگائی تو اس میں زیادتی کی ویڈیوز تھیں۔
انھوں نے مزید بتایا کہ دکاندار نے بچی سے پوچھا یہ کیا ہے تو بچی بھاگ گئی، دکاندار نے محلے والوں سے معلومات لیں اور بات پولیس تک پہنچ گئی ، جس کے بعد پولیس نے شربت کا ٹھیلا لگانے والے شبیر کو گرفتارکیا، اب تک 3 فیملیزسامنےآئی ہیں جن کے3مقدمات درج کئے گئے۔
یاد رہے کہ گذشتہ روز قیوم آباد میں دوبچیوں سے مبینہ زیادتی کے واقعے میں علاقہ مکینوں نے تشدد کے بعد ملزم کو پولیس کے حوالے کیا تھا۔
بعد ازاں پولیس نے زیادتی کی دفعات کے تحت ڈیفنس تھانے میں ملزم کے خلاف مقدمہ درج کرلیا گیا، اہلخانہ کی مدعیت میں زیادتی کا مقدمہ درج کیا گیا، مدعی مقدمہ نے بتایا تھا کہ میری 10 اور 12 سالہ بیٹی کے ساتھ زیادتی کی گئی۔
پولیس کا کہنا تھا کہ بچیوں کے مطابق گرفتار ملزم کئی بار غیراخلاقی حرکتیں کرچکا ہے، واقعے کی تحقیقات کررہے ہیں۔









