حماس کے سینئر رہنما اور جنگ بندی مذاکراتی ٹیم کے سربراہ خلیل الحیہ دوحہ حملے کے بعد پہلی بار منظر عام پر آ گئے۔
قطری ٹیلی ویژن پر نشر ہونے والی ایک نئی فوٹیج میں حماس کے سینئر عہدیدار خلیل الحیہ، گزشتہ ماہ دوحہ میں اسرائیلی فضائی حملے کے بعد پہلی بار دکھائی دیے ہیں۔
خلیل الحیہ نے قطری چینل العربی کو انٹرویو دیا جو نشر ہونے سے قبل ریکارڈ شدہ تھا، الحیہ نے غزہ کی پٹی میں شہید ہونے والوں کے بارے میں بات کی اور فلسطینی عوام کی جدوجہد کو ایک ’’قربانی‘‘ کے طور پر بیان کیا، جس میں صبر اور فتح کی دعا کی گئی۔
انٹرویو میں الحیہ نے حملے میں اپنے بیٹے اور اپنے چیف آف اسٹاف کی شہادت کا بھی بتایا، اسرائیل نے قطر کے دارالحکومت دوحہ میں قاتلانہ حملہ کر کے ان سمیت تمام فلسطینی مزاحمت کاروں کو ایک ساتھ شہید کرنے کی کوشش کی تھی۔
اسرائیل ابتدائی انخلا کے معاملے پر متفق، ٹرمپ نے حماس کو آگاہ کردیا
اسرائیل کا دعویٰ تھا کہ قطر حملے میں الحیہ مارے گئے ہیں تاہم حماس نے واضح کیا تھا کہ الحیہ سمیت حماس کی قیادت محفوظ رہی ہے۔
انھوں نے کہا ’’ہم اپنے لوگوں، عورتوں، بچوں اور بوڑھوں کے نقصان پر غمگین ہیں، ہم ایک بڑے خاندان سے تعلق رکھتے ہیں، یعنی فلسطینی قوم سے، خصوصاً غزہ کے عوام سے، جو آج اپنی جدوجہد اور ثابت قدمی میں پوری قوم کی نمائندگی کر رہے ہیں۔ ہم خدا سے دعا کرتے ہیں کہ وہ ہمارے لوگوں کو صبر، تسلی اور سکون عطا فرمائے، اور ہمارے دشمن کو شکست دے۔









