Light
Dark

ڈاکٹر مہمیر تنیو جعلی مقابلے میں قتل

کراچی میں گلشن اقبال پولیس نے خیرپورکے ہیئر پلانٹ ڈاکٹر مہمیر تنیو کو جعلی مقابلے میں قتل کردیا۔ ڈاکٹر مہمیر سرجری میں استعمال ہونے والا سامان خریدنے کے لیے 14 سے 15 لاکھ روپے لے کر کراچی آیا تھا، ورثا کے مطابق پولیس نے پیسے ہتھیانے کے لیے جعلی مقابلے میں قتل کردیا۔

نوشہرو فیروز کے رہائشی 46 سالہ ڈاکٹر مہمیر علی تنیو تعلقہ کنڈیارو کے گاؤں تنیا بقا شاہ کے رہائشی تھے اور خیرپور میں “فیؤ ہیئر سینٹر” کے نام سے ہیئر ٹرانسپلانٹ کا کام کرتے تھے۔ ان کے لواحقین کے مطابق وہ اپنے کلینک کے لیےتقریبا 15 لاکھ روپے مالیت کے آلات خریدنے کراچی گئے تھے۔ دو دن اپنے بھائی الہوسایو کے پاس جوہر کمپلیکس میں قیام کے بعد وہ سامان خریدنے کے لیے شہر گئے — مگر واپس نہ لوٹے۔
اہل خانہ کے مطابق گلشن اقبال پولیس نے معمول کی چیکنگ کے دوران ڈاکٹر مہمیر کے پاس بڑی رقم دیکھی تو پولیس اہلکاروں نے مبینہ طور پر رشوت طلب کی۔ انکار پر پولیس نے انہیں گولی مار کر ہلاک کر دیا۔ لواحقین کو اطلاع دینے کے بجائے پولیس نے لاش کو ایدھی سینٹر، سہراب گوٹھ میں لاوارث کے طور پر جمع کرا دیا۔
بعد ازاں ایدھی سینٹر انتظامیہ نے خود ڈاکٹر مہمیر کے گھر والوں سے رابطہ کیا اور بتایا کہ پولیس کی جانب سے ایک لاش ہمارے حوالے کی گئی ہے۔ لواحقین 21 اکتوبر کو ایدھی سینٹر پہنچے تو عملے نے تصدیق کی کہ لاش گلشن اقبال تھانے کی پولیس نے دی تھی۔ جب مقتول کے اہل خانہ تھانے پہنچے اور واقعے کی وضاحت مانگی تو پولیس نے روایتی بیان دیا کہ ڈاکٹر مہمیر ایک ڈکیتی کے دوران پولیس مقابلے میں مارا گیا۔
تاہم لواحقین نے پولیس کے اس مؤقف کو یکسر مسترد کرتے ہوئے کہا کہ ڈاکٹر مہمیر کبھی کسی مقدمے میں نامزد نہیں ہوئے اور نہ ہی ان کا کوئی جرائم پیشہ پس منظر تھا۔ ان کے مطابق پولیس نے رقم ہتھیانے کے لیے جعلی مقابلے کا ڈرامہ رچایا۔
شہریوں اور انسانی حقوق کی تنظیموں نے آئی جی سندھ غلام نبی میمن سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ ڈاکٹر مہمیر علی تنیو کے قتل کا فوری اور شفاف نوٹس لیں، واقعے میں ملوث اہلکاروں کے خلاف سخت کارروائی کریں، تاکہ انصاف کے تقاضے پورے ہوں اور کسی اور ماں کی گود پولیس کے ظلم سے خالی نہ ہو۔