امریکی تاریخ کا طویل ترین شٹ ڈاؤن انتہائی شکل اختیار کرگیا، اربوں ڈالر کے نقصانات کے سائے میں سرکاری امور 36ویں روز بھی بند رہے۔
غیرملکی خبرایجنسی نے بتایا کہ امریکی حکومت کا شٹ ڈاؤن تاریخ کا نیا ریکارڈ قائم کرگیا، شٹ ڈاؤن سے لاکھوں امریکی پریشان ہیں اور ان کے معمولات زندگی بُری طرح متاثر ہورہے ہیں، فوڈ اسسٹنس سمیت فلاحی پروگرامز کے فنڈز بند ہونے سے مشکلات میں اضافہ ہوگیا ہے۔
پروازوں میں تاخیر اور ایئرپورٹس پرعملہ بغیر تنخواہ کام کرنے پر مجبور ہے، کانگریس کی جانب سے فنڈنگ کی منظوری نہ ملنے پر وفاقی ادارے مفلوج ہوگئے ہیں۔
خبرایجنسی کا کہنا ہے شٹ ڈاؤن کے باعث کہ ویلفیئر پروگرامزم معطل ہونے سے عوامی مشکلات میں واضح اضافہ ہوا ہے، امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کل صبح ریپبلکن سینیٹرز سے ناشتے پر ملاقات کریں گے۔
ڈیموکریٹس سے مذاکرات کا کوئی شیڈول طے نہیں کیا گیا جبکہ صدر ٹرمپ کا کہنا ہے کہ ڈیموکریٹس پہلے شٹ ڈاؤن ختم کریں پھر ہیلتھ کیئر پر بات ہوگی۔
غیرملکی خبرایجنسی نے مزید بتایا کہ موجودہ شٹ ڈاؤن تنازع کی بڑی وجہ ہیلتھ کیئراخراجات پر ڈیڈلاک ہے، ڈیموکریٹس نے مطالبہ کیا ہے کہ شٹ ڈاؤن کے خاتمے سے پہلے ہیلتھ کیئر معاہدہ ضروری ہے









