واشنگٹن (11 نومبر 2025): امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو القاعدہ کے سابق کمانڈر احمد الشرع بھا گئے ہیں، اور انھوں نے شام کی ہر ممکن مدد کا عزم ظاہر کیا ہے۔
روئٹرز کے مطابق صدر ٹرمپ نے پیر کے روز وعدہ کیا کہ وہ شام کو کامیاب بنانے کے لیے ہر ممکن قدم اٹھائیں گے، یہ اعلان انھوں نے شام کے صدر احمد الشرع سے تاریخی مذاکرات کے بعد کیا، جو کبھی القاعدہ کے کمانڈر رہ چکے ہیں، اور جن پر کچھ عرصہ قبل تک واشنگٹن نے غیر ملکی دہشت گرد ہونے کے الزامات کے تحت پابندیاں عائد کر رکھی تھیں۔
شامی صدر سے ملاقات کے بعد ٹرمپ نے کہا کہ مجھے شامی صدر پسند آئے اور ہم ہر ممکن کوشش کریں گے کہ شام کامیاب ہو کیوں کہ یہ مشرق وسطیٰ کا حصہ ہے۔
صدر ٹرمپ کا بغیر تنخواہ کام کرنیوالے ایئرٹریفک کنٹرولرز کو 10 ہزار ڈالرز بونس دینے کا اعلان
شرع جن کے سر کی قیمت کبھی ایک کروڑ ڈالر مقرر تھی، کا امریکا میں غیر معمولی طور پر سادہ استقبال کیا گیا تھا، بغیر کسی رسمی پروٹوکول کے انھیں وائٹ ہاؤس پہنچایا گیا۔ روئٹرز کے مطابق انھیں ویسٹ ونگ کے مرکزی دروازے سے نہیں لے جایا گیا جہاں ان کا روایتی طور پر خیر مقدم کیا جاتا بلکہ ایک عقبی دروازے سے داخل کرایا گیا، جہاں رپورٹرز بھی انھیں محض سرسری طور پر ہی دیکھ سکے۔
صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے ٹرمپ نے احمد الشرع کو ’’ایک مضبوط لیڈر‘‘ قرار دیا اور ان پر اعتماد کا اظہار کیا۔ ٹرمپ نے شرع کے متنازع ماضی کی طرف بھی اشارہ کیا اور کہا ’’ہم سب کے ماضی میں مشکل ادوار آئے ہیں۔‘‘
خیال رہے کہ شامی صدر احمد الشرع کی وائٹ ہاؤس میں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ سے اہم ملاقات ہوئی جس میں دو طرفہ تعلقات کو مضبوط بنانے، علاقائی امن، خطے اور بین الاقوامی امور پر تبادلہ خیال کیا گیا۔ شامی صدر کی ٹرمپ سے پہلی ملاقات رواں سال مئی میں سعودی عرب میں امریکی صدر کے علاقائی دورے کے دوران ہوئی تھی، اس وقت 79 سالہ ٹرمپ نے 43 سالہ الشرع کو ایک نوجوان اور پرکشش آدمی قرار دیا تھا۔
دریں اثنا، امریکا نے شام پر عائد پابندیوں کی عارضی معطلی میں مزید توسیع کر دی ہے۔









